سرکاری دواخانوں میں علاج کے بجائے امراض پھیلنے کا زیادہ خطرہ

   

ملیریا ، ڈینگو و دیگر وبائی امراض کے باوجود صفائی سے مجرمانہ غفلت ، عوام کو مشکلات
حیدرآباد ۔ /14 ستمبر (سیاست نیوز) سرکاری مبینہ لاپرواہی اور عدم توجہ کے سبب سرکاری دواخانے بیماریوں کو پھیلانے کا سبب بن رہے ہیں ۔ شہر میں ایک طرف موسمی بخار اور وائرل میں فیور ڈینگو ملیریا سے شہریوں میں خوف پایا جاتا ہے ۔ جہاں ایک طرف بیماریوں کے پھیلاؤ میں اضافہ سے شہری پریشان ہیں تو وہیں دوسری طرف دواخانوں کی حالت زار دیکھ کر ان میں علاج سے دوری میں ہی عافیت محسوس کررہے ہیں ۔ شہر میں ایک طرف عدم صفائی اور کچرے کی عدم نکاسی مسئلہ ہے تو بارش کے سبب پانی کے عدم بہاؤ نے رہی سہی کسر کو پورا کردیا اور اب سرکاری مشنری کی مجرمانہ غفلت جان لیوا ثابت ہوسکتی ہے ۔ سرکاری دواخانوں کو معیاری اور علاج کیلئے بہتر بنانے کے سرکاری دعوے بھی ایسا لگتا ہے کہ بارش میں بہہ گئے ۔ غریب اور عام آدمی سرکاری دواخانوں پر انحصار کرتا ہے ۔ چونکہ خانگی دواخانوں کے نخرے اور ان کی پالیسیاں اور علاج کی قیمتیں مزید بیمار اور وقت سے پہلے ہلاکت کے تصور کرنے پر مجبور کرتی ہیں ۔ ایسی صورت میں سرکاری دواخانوں کا حال بے حال ہوگیا ہے ۔ ان دونوں شہر کے سبھی سرکاری دواخانے انتہاء درجہ کی گندگی کے سبب سرکاری لاپرواہی کی منہ بولتی تصویر بنے ہوئے ہیں ۔ معاشی حالت سے مجبور خانگی دواخانوں میں علاج کروانے سے قاصر شہری اس گندگی کو برداشت کرکے اپنے مریضوں کا علاج کروانے پر مجبور ہیں ۔ ہاسپٹل میں مریض تو بیماری سے صحت یاب ہوتا ہو لیکن مریض کے رشتہ دار اور ان کے مددگار ضرور ہاسپٹلس کے قریب موجودہ گندگی اور عدم صفائی سے بیمار ہوسکتے ہیں ۔ A

شہر کے تقریباً بڑے سرکاری ہاسپٹل کا ان دنوں ایسا ہی عالم ہے ۔ ہاسپٹل میں علاج بہتر انداز سے کیا جارہا ہے ۔ عملہ اور ڈاکٹرس بھی اچھا تجربہ رکھتے ہیں ۔ سہولیات بھی بہتر ہونے کا دعویٰ کیا جارہا ہے لیکن بیماری کی روک تھام کیلئے سرکاری اقدامات کچھ اور ہی شکل و صورت پیش کررہے ہیں ۔ عثمانیہ ، گاندھی اور نیلوفر ہاسپٹل جہاں ایک اندازے کے مطابق روزانہ 4 تا 5 ہزار مریض علاج کی غرض سے آتے ہیں ۔ شہر کے سرکاری دواخانوں میں صفائی کے انتظامات کی ذمہ داری خانگی ایجنسی کو دی گئی ہے اور ان پر کروڑہا روپئے خرچ کئے جارہے ہیں ۔ حکومت اور انتظامیہ کو چاہئیے کہ وہ صفائی پر فوری توجہ مرکوز کرتے ہوئے بہترین سہولیات کو یقینی بنانے کے عملی اقدامات کریں ۔ A