سرکاری دواخانوں میں ڈینگو کے مریضوں کی بھرمار

,

   

مزید مریضوں کی گنجائش ختم، ایک بستر پر متعدد مریض، صحن میں مریضوں کی قطار، وبائی امراض سے عوام پریشان حال

حیدرآباد۔18 ستمبر(سیا ست نیوز) سرکاری دواخانوں میں ڈینگو کے متاثرین کی طویل فہرست اب بھی موجود ہے اور متاثرہ مریضوں کو داخلہ حاصل کرنے میں دشواریوں کا سامنا کرنا پڑرہا ہے کیونکہ سرکاری دواخانوں میں مزید مریضوں کو شریک کرتے ہوئے علاج کی گنجائش موجود نہیں ہے جو کہ سرکاری دواخانوں کے انتظامیہ کیلئے انتہائی تکلیف دہ ہے لیکن حکومت اور محکمہ صحت کی جانب سے ان مسائل کے حل کیلئے اقدامات نہیں کئے جا رہے ہیں جو کہ سرکاری دواخانوں کی ابتری اور مریضوں کو شریک کرنے میں دشواری کا سبب بن رہی ہیں۔ فیور ہاسپٹل کورنٹی میں ڈینگو کے لئے علحدہ وارڈ بنائے جانے کے بعد بھی ایک بستر پر ایک سے زائد مریضوں کو شریک کیا جانے لگا ہے کیونکہ ڈینگو کے علاوہ دیگر وبائی امراض کے ساتھ مریض دواخانہ سے رجوع ہورہے ہیں اور ان مریضو ںکو کئی گھنٹے تک انتظار کے بعد بستر فراہم کئے جا رہے ہیں جس کے سبب پڑوسی اضلاع یا دور دراز کے مقام سے دواخانہ کو رجوع ہونے والے مریضو ںکو دواخانہ کے صحن میں اپنی باری کا منتظر دیکھا جا رہاہے ۔ دونوں شہروں حیدرآباد و سکندرآباد میں کئی علاقوں میں شہری وبائی امراض کا شکار ہورہے ہیں ۔ ماہراطباء کا کہناہے کہ وبائی امراض کا شکار ہونے کے بعد مریض کے مدافعتی نظام میں جو کمزوری پیدا ہورہی ہے اس ضعف کے باعث وہ جلد ڈینگو سے متاثر ہونے لگے ہیں اور ڈینگو کے مریضو ںکی بڑی تعداد دواخانوں سے رجوع ہونے لگی ہے اور ان میں اکثریت ایسے مریضو ںکی ہے جن کے حالیہ عرصہ میں وبائی بخار یا دیگر وجوہات کے سبب علاج کئے گئے تھے ۔ڈاکٹرس نے بتایا کہ سرکاری دواخانوں میں صورتحال کو بہتر بنانے کیلئے فوری طور پر اضافی عملہ کی تعیناتی کے علاوہ بستروں کی تعداد میں اضافہ کے اقدامات کئے جانے لازمی ہیں اور اگر ایسا نہیں کیا جاتا ہے تو مریضو ںکو جن میں اکثریت معصوم بچوں کی ہے مشکلات اور سنگین حالات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے ۔ مریضوں کے رشتہ داروں کا کہناہے کہ وہ صحن میں اس لئے انتظار کر رہے ہیں کیونکہ وہ دیکھ رہے ہیں کہ دواخانہ میں شریک کرنے کیلئے کوئی گنجائش موجود نہیں ہے اور اگر وہ واپس جاتے ہیں تو انہیں داخلہ حاصل کرنا دشوار ہوسکتا ہے اسی لئے وہ مریض کے ساتھ دواخانہ کے صحن میں ہی منتظرہیں تاکہ کسی بھی طرح کی ایمرجنسی میں کم از کم ڈاکٹرس کی خدمات سے استفادہ تو کیا جاسکتا ہے اور فوری طور پر طبی امداد پہنچانے کے اقدامات کئے جاسکتے ہیں۔