ڈبلیو ایچ او کے انتباہ کے بعد مرکزی و ریاستی حکومتیں فوری توجہ
حیدرآباد۔ سرکاری دواخانوں کی حالت کو بہتربنانے کے سلسلہ میں فوری طور پر اقدامات ناگزیر ہیں اور ریاستی ومرکزی حکومتوں کو ہندستان میں ہیلت انفراسٹرکچر کے فروغ کے لئے اقدامات کا آغاز کرتے ہوئے بہتر طبی سہولیات کی فراہمی کے سلسلہ میں منصوبہ بندی کرنے کے اقدامات کرنے کے چاہئے ۔ عالمی ادارۂ صحت کی جانب سے گذشتہ یوم جاری کردہ انتباہ میں کہا گیا ہے کہ دنیا کو وبائی امراض سے نمٹنے کیلئے تیار رہنے کی ضرورت ہے اوروبائی امراض میں اضافہ کی صورت میں فوری طور پر طبی سہولتوں کی فراہمی کی جانی چاہئے ۔ کورونا وائرس وباء کے آغاز کے ساتھ ہی جو مسائل کا سامنا شہریوں کو ہندستان میں رہا ہے اور شہری اب تک بھی جن مسائل کا سامنا کر رہے ہیں ان مسائل کے حل کے لئے حکومتوں کی جانب سے سرکاری دواخانوں میں سہولتوں کو بہتر بنانے کے دعوے کئے جا رہے ہیں لیکن عملی طور پر سرکاری دواخانوں کی صورتحال کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات سامنے آرہی ہے کہ ملک کی کئی ریاستوں بالخصوص ریاست تلنگانہ میں عوام سرکاری دواخانوں کے بجائے خانگی دواخانوں کو ترجیح دے رہے ہیں کیونکہ سرکاری دواخانوں کے تعلق سے جو منفی رجحان ذہنوں میں ہیںان کے ازالہ کے لئے حکومتوں کی جانب سے کی جانے والی کوشش ناکام ثابت ہورہی ہے اسی لئے ریاستی حکومت کو ہیلت انفراسٹرکچر کو بہتر بنانے کے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ شہر حیدرآباد میں کورونا وائرس کے علاج کے لئے گاندھی ہاسپٹل کو مخصوص قرار دیا گیا تھا لیکن جیسے جیسے کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد میںاضافہ ہوتا گیا اسی کے ساتھ دواخانہ عثمانیہ ‘ کنگ کوٹھی دواخانہ ‘ چیسٹ ہاسپٹل‘ تلنگانہ انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنس اور نمس کے بعض حصوں کو کورونا وائرس کے لئے مخصوص کرنے کے اقدامات کئے گئے لیکن اس کے باوجود ان دواخانوں میں سہولتوں کی عدم موجودگی کی شکایات عام ہیں اسی لئے شہریوں کی جانب سے سرکاری دواخانوں کے بجائے خانگی اور کارپوریٹ دواخانوں کو ترجیح دی جانے لگی ہے ۔ریاستی حکومت کی جانب سے چلائے جانے والے دواخانوں میں سہولتوں کی عدم موجودگی کی شکایات کے سلسلہ میں کہا جا رہاہے کہ کہیں عملہ نہیں ہے تو کہیں آکسیجن کی سہولت نہیں ہے اور کسی دواخانہ میں ماہرین امراض موجود نہ ہونے کے سبب مریضوں کو دوسرے دواخانہ منتقل کیا جا رہاہے اور کئی سرکاری دواخانوں میں اسکاننگ اور دیگر معائنوں کی سہولت نہ ہونے کے سبب مریضوں کو دوسرے دواخانوں میں منتقل کیا جانے لگا ہے۔