کنٹراکٹ خدمات پر مامور شخص کورونا سے متاثر ، امتیازی ذات سے دلبرداشتہ ہوکر خودکشی
میدک ۔ میدک کے نواحی منڈل حویلی گھن پور کی گرام پنچایت کو چن پلی میں ایک شخص یادگیری 40 سالہ نے پھانسی لے لی ۔ تفصیلات کے مطابق اس گاؤں میں یہ شخص کووڈ 19 سے متاثر ہوا ۔ لیکن یہاں کورونا کی وباء نے جان نہیں لی بلکہ رنگ و نسل ذات پات کی وباء نے اس کی جان لے لی ۔ بتایا جاتا ہے کہ متوفی ناگیا اور اس کی شریک حیات ضلع میدک کے نرساپور کے ایریا ہاسپٹل میں کنٹراکٹ پر خدمات انجام دیتے ہیں ۔ انہیں کووڈ 19 کی مثبت علامت پائی گئی ۔ جس پر ہسپتال کے انچارج ڈاکٹر نے انہیں کچھ حد تک علاج کے بعد ہوم کورنٹائن کیلئے روانہ کردیا ۔ تب جاکر یہ جوڑا نراسپور میں اپنے کرائے کے مکان میں سکونت کیلئے آگئے ۔ لیکن مالک مکان نے انہیں گھر میں آنے سے روک دیا ۔ کہا کہ اپنے آبائی مقام چلے جائیں ۔ جس سے دلبرداشتہ ہوکر یہ دونوں یکم اگست کو اپنے گاؤں کو چن پلی آگئے جہاں گاؤں والوں نے اس بات کی اطلاع پاکر ذات پات کا مسئلہ لاتے ہوئے گاؤں سے چلے جانے کیلئے دباؤ ڈالا ۔ واضح رہے کہ اس گاؤں میں اعلی ذات کا غلبہ ہے ۔ متاثرہ جوڑا ایس سی طبقہ سے تھا ۔ جس پر متوفی کی اہلے جو نرس ہے بتایا کہ میں گھر پر رکھتے ہوئے اس کا علاج کرلوں گی لیکن یہاں اعلی ذات کے طبقہ نے ان پر محض ایس سی ہونے کی وجہ سے یہاں سے بھی کہیں جانے کیلئے دباؤ ڈالا ۔ جس پر متاثرہ افراد جو کووڈ کا شکار تھا ۔ دلبرداشہ ہوکر اپنے ہی گھر میں پھانسی لے لی ۔ اس کی اطلاع پاکر میڈیکل ٹیم اور پولیس نے کورونا گائڈلائینس پر مہلوک شخص کی آخری رسومات انجام دی ۔ محض ذات پات کے امتیاز نے اس شخص کی جان لے لی ۔ تلگودیشم کے انچارج میدک پارلیمانی حلقہ مسٹر ای رمیش ، محمد افضل جنرل سکریٹری تلگو دیشم پارٹی نے یادگیری کی موت پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ۔ انہوں نے اس معاملہ کی تحقیقات کرنے اور متوفی کے خاندان کو 10 لاکھ ایکس گریشیا اور اس کی شریک حیات کو کنٹراکٹ پر خدمات انجام دیتی ہے اس کی ملازمت پر مستقل خدمات کے احکامات کی اجرائی کیلئے ریاستی حکومت سے پرزور مطالبہ کیا ۔ اور متوفی یادگیری پر گاؤں چھوڑنے کیلئے دباؤ ڈالنے والے اعلی ذاتی افراد کے خلاف کارروائی کرنے کا بھی مطالبہ کیا ۔