اردو آفیسرس کے ساتھ دوسری خدمات ، متعدد دفاتر میں عہدیداروں کے غیر مجاز تبادلے
حیدرآباد۔27مئی (سیاست نیوز) کورنا وائرس کی ہنگامہ آرائی کے دوران کئی اہم مسائل کو نظر انداز کیا جانے لگا ہے اور سرکاری سطح پرکی جانے والی کوتاہیوں کو جو نظر انداز کرنے کی پالیسی اختیار کی گئی ہے اس کے نتیجہ میں کئی اہم محکمہ جات کی سرگرمیاں ٹھپ ہوچکی ہیں۔ریاست تلنگانہ میں اردو کو دوسری سرکاری زبان کا موقف دیئے جانے کے بعد ریاستی وزراء کے دفاتر کے علاوہ ریاست کے ضلع کلکٹرس کے دفاتر میں اردو آفیسرس کے تقررات کے اقدامات کئے گئے لیکن اب یہ اردو آفیسر کہاں خدمات انجام دے رہے ہیں یہ کوئی نہیں بتا سکتا کیونکہ ان عہدیداروں کے تقرر کے بعد انہیں مختلف محکمہ جات کے حوالہ کرتے ہوئے ان سے مختلف کام لئے جانے لگے ہیں اور ان کو جن مقاصد کے تحت بھرتی کیا گیا تھا انہیں کوڑے دان کی نذر کردیا گیا ہے۔ ریاست تلنگانہ کے کئی اہم وزارتو ںمیں جن اردو عہدیداروں کو تعینات کیا گیا تھا ان میں بیشتر اپنی مرضی سے دیگر محکمہ جات میں خدمات حاصل کرچکے ہیں اور بعض کو ان کی مرضی کے خلاف وزراء کے دفاتر سے علحدہ کردیا گیا ہے۔ حکومت تلنگانہ کی اہم وزارتوں وزارت بلدی نظم و نسق‘ فینانس‘ وزارت ٹرانسپورٹ‘ وزارت آبپاشی کے علاوہ سیول سپلائیز اور صحت کے علاوہ دیگر وزارتوں میں اردو آفیسرس نہیں ہیں جبکہ وزارتوں اور ضلع کلکٹرس کی تعداد کے مطابق ان اردو آفیسرس کے تقرر کو یقینی بنایا گیا تھا لیکن اب یہ اردو آفیسر س بنیادی طور پر جن خدمات کیلئے منتخب کئے گئے تھے ان خدمات کو فراموش کرتے ہوئے انہیں مختلف ایسے اداروں میں خدمات انجام دینے کے لئے مجبور کیا جا رہاہے جہاں ان کا کوئی کام ہی نہیں ہے۔ریاستی حکومت کی جانب سے اردو کو دوسری سرکاری زبان کا موقف دیئے جانے کے اعلانات کو عملی جامہ پہنانے کیلئے کئے گئے اقدامات میں سب سے اہم قدم ان اردو آفیسر س کے تقررات کو یقینی بنانا سمجھا جا رہا تھا اور یہ خیال کیا جانے لگا تھا کہ ریاستی حکومت کی جانب سے کئے جانے والے اس فیصلہ کے بعد ریاستی حکومت میں اردو زبان میں دی جانے والی درخواستوں کی بھی سنوائی ہونی شروع ہوجائے گی اور اردو عہدیداروں کے ذریعہ شکایات کا ترجمہ اور مسائل کو حکومت تک روانہ کیا جاتا رہے گا لیکن ریاستی حکومت کی وزارتوں اور وزراء کی جانب سے ہی ان اردو عہدیداروں کو اپنے پاس سے کسی اور محکمہ کو روانہ کرنے کے لئے اقدامات کئے جانے لگے ہیںا ور اس کا ہی نتیجہ ہے کہ اب ریاست تلنگانہ کے نصف سے زیادہ محکمہ جات میں اردو عہدیدار موجود نہیں ہیں اور وہ کسی اور ذمہ داری کو ادا کرر ہے ہیں اور انہیں کہا جا رہاہے کہ جب ان کی تنخواہ موصول ہورہی ہے تو وہ خاموشی کے ساتھ وہ ذمہ داری کو ادا کریں جو اانہیں دی گئی ہے۔