بی آر ایس لیڈر ہریش راؤ کا الزام، ہائی کورٹ کی سرزنش کے باوجود حکومت کے رویہ میں تبدیلی نہیں
حیدرآباد۔ 11 جنوری (سیاست نیوز) اسمبلی میں بی آر ایس کے ڈپٹی لیڈر اور سابق وزیر ٹی ہریش راؤ نے کہا کہ فلموں کے ٹکٹ کی شرحوں میں اضافے کے مسئلہ پر ہائی کورٹ کی جانب سے سرزنش کے باوجود حکومت کے رویہ میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سنیما تھیٹرس کی بجائے تلنگانہ سکریٹریٹ میں سسپنس تھریلر سنیما جاری ہے اور وزیر سنیماٹوگرافی کے علم کے بغیر ہی شرحوں میں اضافے کے احکامات جاری کردیئے گئے۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے ہریش راؤ نے کہا کہ ایک وزارت کے بارے میں فیصلے دوسری وزارت کے عہدیدار کررہے ہیں۔ وزیر سنیماٹوگرافی کومٹ ریڈی وینکٹ ریڈی کی اطلاع کے بغیر ہی سکریٹری ہوم نے ٹکٹ کی شرح میں اضافے کے احکامات جاری کردیئے۔ انہوں نے کہا کہ اپنے قریبی فلم ایکٹرس کی فلموں کو شرح میں اضافے کی اجازت دی جارہی ہے۔ وینکٹ ریڈی نے جی او کی اجرائی سے لاتعلقی کا اظہار کردیا جس کے نتیجہ میں سرکاری محکمہ جات میں تال میل کی کمی بے نقاب ہوچکی ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ کابینی وزیر کی اطلاع کے بغیر دوسرے محکمہ کے عہدیدار جی او کس طرح جاری کرسکتے ہیں۔ انہوں نے چیف منسٹر ریونت ریڈی سے سوال کیا کہ حکومت پر آخر کس کا کنٹرول ہے۔ تلنگانہ حکومت ایک سرکس کمپنی میں تبدیل ہوچکی ہے۔ وینکٹ ریڈی نے اعلان کیا تھا کہ جب تک وہ وزارت میں رہیں گے اس وقت تک ٹکٹوں کی شرح میں اضافے کی اجازت نہیں دی جائے گی لیکن صورتحال تبدیل ہوچکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں وینکٹ ریڈی کی حالت پر رحم آرہا ہے کیونکہ وزارت پر ان کا کوئی کنٹرول نہیں ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ درپردہ ماورائے دستور اتھاریٹی کام کررہی ہے جس کے نتیجہ میں وزراء کی اطلاع کے بغیر احکامات جاری کئے جارہے ہیں۔ انہوں نے درپردہ شخصیت کو منظر عام پر لانے کا مطالبہ کیا۔ ہریش راؤ نے دعویٰ کیا کہ آئندہ تلنگانہ کی حکومت کے سی آر کی رہے گی کیونکہ عوام کانگریس کی بدعنوانیوں سے عاجز آچکے ہیں۔ انہوں نے گورنر جشنودیو ورما سے مطالبہ کیا کہ فلم کے ٹکٹوں کی شرح میں اضافے کے ذریعہ کمیشن کے حصول کی تحقیقات کریں۔ 1
