سرکاری مدارس میں تعلیم کی بدترین صورت حال

   

Ferty9 Clinic

مضمون واری اساتذہ کے بجائے ودیا والینٹرس کی خدمات سے استفادہ ، ڈی ای او کا اظہار معذرت

کریم نگر ۔ 6 ۔ جولائی : ( سیاست نیوز) : حکومت کی جانب سے مخلوعہ جائیدادوں پر مدرسوں کے عدم تقررات ، دیگر مدارس میں ضرورت سے زیادہ اساتذہ اور بعض جگہ بلالحاظ ضرورت انتہائی کم ٹیچرس پائے جاتے ہیں ۔ ان میں مروجہ طریقہ کار کے مطابق زائد ٹیچرس کو ضرورت والے مقامات پر بھیجا جاتا ہے ۔ تاہم اس طریقہ کار کو استعمال نہ کرنے کی وجہ سے کئی سرکاری تعلیمی اداروں میں طلباء ہنوز تعلیم سے محروم ہیں ۔ اس کی وجہ سے اولیائے طلبہ بے چین ہیں ۔ اسٹوڈنٹس اور ان کی یونینوں کی جانب سے اچانک احتجاج کے سلسلہ میں سڑکوں پر آجانا ، سیاسی قائدین کی جانب سے ٹیچرس اور ودیا والینٹرس کے تقررات کے لیے یادداشت کی حوالگی کے باوجود متعلقہ عہدیدار لا تعلق بنے ہوئے ہیں ۔ جن مدارس میں طلباء کی زائد تعداد موجود ہے وہاں ناکافی ٹیچرس ہونے کی وجہ سے مدرسین پریشانی اور بے اطمینانی کا اظہار کررہے ہیں ۔ ضلع میں 424 پرائمری ، 76 اپرپرائمری اور 140 ہائی اسکول ہیں ۔ نئے تعلیمی سال کے آغاز کے موقع پر بڈی باٹا کے تحت خصوصاً قائدین کے تعاون سے ٹیچرس نے کچھ اسکولس میں بچوں کی تعداد کا نشانہ پار کرلیا ہے ۔ ہائی اسکول کی تعلیم میں ٹیچرس کی قلت کا زیادہ اثر نہ پڑا ہو لیکن ابتدائی اور درمیانی جماعتوں میں اس کا برا اثر دیکھنے میں آیا ۔ واضح رہے کہ پہلی تا پانچویں جماعت کے لڑکوں کے لیے ایک یا دو ٹیچرس سے کام چلایا جارہا ہے جب کہ 50 سے زائد طلباء والے اسکولس میں ٹیچرس کے موجود نہ ہونے پر ودیا والینٹرس کا تقرر کرنے کا مطالبہ بار بار کرنے پر ڈی ای او نے معذرت ظاہر کی ۔۔