سرکاری مراعات میں اقلیتی طبقہ و علاقے نظرانداز

   

حیدرآباد ۔ 24 نومبر ۔ (سیاست نیوز) غریب و خطہ غربت سے نیچے زندگی بسر کرنے والوں کو دی جانے والی مراعات میں اقلیتی طبقہ اور اقلیتی علاقے نظراندازہونے لگے ہیں ۔ سرکاری طورپر ان کی درخواستوں کو خاطر میں نہیں لایا جاتا ہے اور نہ ہی اُنھیں دی جانے والی سرکاری مراعات کی فراہمی میں عہدیدار دلچسپی رکھتے ہیں ۔ آسرا پنشن کے متعلق پرانے شہر سے سرکاری مشنری کا معاندانہ ر ویہ جاری ہے ۔ حدعمر میں رعایت کے باوجود داخل کردہ درخواستوں پر مہینوں گذرنے کے بعد بھی کوئی کاروائی نہیں ہو ئی اور نہ ہی ان بے سہارا اور پنشن پر انحصار کرنے والے خاندانوں کا کوئی پرسان حال ہے ۔ ضلع حیدرآباد کے یاقوت پورہ‘چارمینار‘ملک پیٹ سلم علاقوں میں آسرا پنشن سے استفادہ کرنے والوں کی اکثریت ہے ۔تالاب چنچلم‘چھاونی‘رین بازار’ دبیر پورہ ڈیویژنس کے درخواست گذار دفاتر کے چکر کاٹنے پر مجبور ہوگئے ہیں ۔یہ ضرورت مند افراد ہر دن ایک آس اور امید لیکر دفاتر پہنچتے ہیں اور مایوس ہوکر واپس ہورہے ہیں ۔ انتہا یہ ہے کہ عہدیدار پنشن کیلئے حد عمر میں حکومت کی جانب سے کی گئی کمی سے لا علم ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ وہ صرف درخواست حاصل کرکے ضلع کلکٹر کے حوالے کرنے تک ذمہ داری سنبھالے ہوئے ہیں۔وظیفہ کی منظوری کا انہیں کوئی اختیار نہیں ۔ ع