!سرکاری مشنری کی خامی ،قیمتی اراضیات غیر مجاز قبضوں کی نذر

   

کلکٹرس کے بشمول عہدیداروں کے بار بار تبادلے کی وجہ متاثرہ شہری دفاتر کے چکر کاٹنے مجبور، عوامی فلاح کیلئے اقدامات ضروری
حیدرآباد 13 اگسٹ (سیاست نیوز) کروڑہا روپئے کی اراضیات ناجائز قبضوں کی نذر ہورہی ہیں۔ ہزارہا شہری دفاتر کے چکر کاٹنے پر مجبور ہیں۔ اراضیات پر قبضوں کو برخواست اور عوام مسائل کی یکسوئی اور سہولت بخش خدمات حیدرآبادی عوام کے لئے ایک طویل عرصہ سے دھرے کے دھرے رہ گئے ہیں۔ اس کی ایک اہم اور خاص وجہ عہدیداروں کا تبادلہ تصور کیا جارہا ہے۔ بالخصوص حیدرآباد کے ضلع کلکٹر کی کرسی پر کسی عہدیدار کو طویل عرصہ تک خدمات انجام دیتے ہوئے ان دنوں کافی عرصہ گذر چکا ہے۔ اس سے قبل کہ حالات کا جائزہ لینے کے بعد مزاج اور ماحول سے واقفیت حاصل ہو اور اختیارات کے استعمال کی تیاری کی جائے۔ اس سے قبل ہی تبادلہ کے احکامات پہونچ جاتے ہیں۔ حیدرآباد ضلع کلکٹر کی کرسی کا حال کچھ ایسا ہی ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ گزشتہ 5 سالوں کے عرصہ میں حیدرآباد ضلع میں کلکٹر کا 5 مرتبہ تبادلہ ہوا۔ سرکاری اراضیات کا تحفظ ہو یا پھر سرکاری اسکیمات کی عمل آوری سارے اقدامات جوں کا توں موقف میں پائے جاتے ہیں۔ اسکیمات کا اعلان بھی ہوتا ہے اور آغاز بھی تاہم وہ تکمیل تک پہونچے میں ایک عرصہ گذر چکا ہے۔ اور تبادلوں کے فوری اقدامات کے سبب زیرالتواء دفتری امور بھی سرد مہری کا شکار ہوگئے ہیں۔ عوامی خدمات کے جذبہ سے محکمہ میں ملازمت حاصل کرنے والے عہدیدار زیادہ عرصہ تک خدمات انجام دینے سے قاصر ہیں۔ ایک سابق آئی اے ایس عہدیدار نے اس بات کا اظہار کیاکہ شہر حیدرآباد میں کلکٹر کا عہدہ صرف پروٹوکال کلکٹر کا ہوگیا ہے۔ چونکہ اس ضلع میں آنے والے کلکٹر کے لئے سرکاری سطح پر مشنری کے کام کاج کی جانچ خامیوں کو درست کرنا روکاوٹوں کو دور کرنا اور مؤثر اقدامات کی فراہمی کے لئے سسٹم کو کارگرد بنانا سرکاری اراضیات کا تحفظ سرکاری اسکیمات کی عمل آوری پر جامع پالیسی تیار کرنا مشکل ہوگیا ہے۔عہدے پر فائز ہونے کے بعد جانچ سے قبل ہی جانے کے احکامات عہدیدار کے منتظر رہتے ہیں۔ دارالحکومت کے احاطہ میں حیدرآباد، رنگاریڈی کے علاوہ میڑچل ملکاجگیری ضلع بھی پایا جاتا ہے۔ کلکٹر کی ذمہ داری سنبھالنے والے اکثر عہدیدار ریٹائرڈمنٹ کے قریب آتے ہیں یا پھر اپنی نجی مصروفیت کے سبب تبادلہ چاہتے ہیں۔ عدالتوں میں اہم مقدمات کے علاوہ عوامی مسائل اور شکایتیں کئی سالوں سے زیرالتواء ہیں جو یکسوئی کے منتظر ہیں۔ ضلع حیدرآباد میں 16 منڈل پائے جاتے ہیں۔ شادی مبارک، کلیان لکشمی، آسرا پنشن، ذات پات، جائیداد و دیگر کے تصدیق صداقت ناموں کی سہولیات تحصیلدار دفاتر سے انجام دیئے جاتے ہیں اور نگرانی کے فقدان کے سبب چند تحصیلدار دفاتر میں خانگی افراد کا زور چل رہا ہے۔ اس دوران ایک تحصیلدار نے بتایا کہ سرکاری اراضیات پر ناجائز قبضہ بڑے زوروں سے جاری ہے اور یہ ساری غیر سماجی سرگرمیاں نگرانی کے فقدان کے سبب ہے۔