حیدرآباد۔ بی جے پی کے ریاستی صدر بنڈی سنجے نے کہا کہ سرکاری ملازمین، ٹیچرس اور پنشنرس کے حقوق کیلئے بی جے پی عنقریب ریاستی سطح کا ایجی ٹیشن شروع کرے گی۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے سنجے نے کہا کہ چیف منسٹر سے اپنی حالیہ ملاقات کے بارے میں ملازمین کی تنظیموں کے قائدین کو ردعمل ظاہر کرنا چاہیئے کیونکہ سرکاری ملازمین اور عوام میں اُلجھن پائی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کورونا لاک ڈاؤن کے بعد سے ٹیچرس مسائل کا شکار ہیں۔ اساتذہ کی مخلوعہ جائیدادوں پر عدم تقررات کے نتیجہ میں ریاست میں تعلیمی شعبہ بری طرح متاثر ہوا ہے۔ سنجے نے کہا کہ 1990 سے سیول کانسٹبلس کو ترقی نہیں دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے گرام پنچایتوں کو بجٹ کی عدم اجرائی کے نتیجہ میں ترقیاتی کام متاثر ہیں۔ سرپنچوں کے اختیارات کو کم کردیا گیا ہے۔ انہوں نے پنچایتوں اور مجالس مقامی کو نظرانداز کرنے کا الزام عائد کیا۔ بی جے پی صدر نے کہا کہ کاکتیہ یونیورسٹی میں اے بی وی پی قائدین کے خلاف لاٹھی چارج کی وہ مذمت کرتے ہیں۔ طلبہ کے مسائل پر جدوجہد کرنے والے اے بی وی پی قائدین پر لاٹھی چارج افسوسناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ اے بی وی پی اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔ ایس سی طلبہ کیلئے نریندر مودی حکومت کی جانب سے پوسٹ میٹرک اسکالر شپ کا آغاز کیا گیا جو قابل ستائش ہے۔ ریاستی حکومت کو اس اسکیم کیلئے 40 فیصد بجٹ مختص کرنا چاہیئے۔ مذکورہ اسکیم سے ملک بھر میں 4 کروڑ طلبہ کو فائدہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ نریندر مودی حکومت غریب طلبہ کی بھلائی کے اقدامات کررہی ہے۔