سرکاری ملازمین تنظیموں کاآج لنچ کے وقفہ میں احتجاجی مظاہرے

   


پی آر سی اور ڈی اے کی فوری اجرائی پر زور، جاریہ ماہ مسئلہ کی عدم یکسوئی پر احتجاج میں شدت کا انتباہ

حیدرآباد: حکومت تلنگانہ کے ملازمین کی تنظیمو ںکی جانب سے 21 ڈسمبر کو اپنے اپنے دفاتر میں لنچ کے دوران احتجاجی مظاہر ہ کیاجائے گا اور ریاستی حکومت سے مطالبہ کیا جائے گا کہ ریاستی حکومت پی آر سی پر عمل آوری کے علاوہ گذشتہ دو مرتبہ سے اضافہ کئے گئے ڈی اے کی اجرائی عمل میں لانے کے اقدامات کرے اور سرکاری ملازمین کی تنخواہوں پر نظر ثانی کے اقدامات کئے جائیں۔ تلنگانہ ایمپلائز اسوسیشن کی جانب سے کئے گئے اس اعلان کے سلسلہ میں عہدیداروں نے بتایا کہ حکومت کی جانب سے ملازمین کے ساتھ متعدد اجلاسوں کے دوران اس بات کا وعدہ کیا گیا تھا لیکن ان وعدوں کو فراموش کیا جاتا رہا ہے اسی لئے ملازمین کی تنظیموں کی جانب سے بڑے پیمانے پر احتجاج کے آغاز کی منصوبہ بندی کی گئی او رکہاجار ہاہے کہ 21 ڈسمبر کو لنچ کے دوران کیا جانے والا احتجاجی مظاہرہ علامتی ہوگا اور اگر حکومت کی جانب سے اس کے باوجود کوئی حرکت نہیںکی جاتی اور پی آر سی پر عمل آوری کے علاوہ ڈی اے کی اجرائی کے اقدامات نہیں کئے جاتے ہیں تو ایسی صورت میں ضلع واری اساس پر احتجاجی پروگرام منظم کئے جائیں گے اس کے علاوہ دیگر تنظیموں اور ملازمین کی جوائنٹ ایکشن کمیٹی سے مشاورت کے ساتھ ریاست گیرسطح پر احتجاج اور مطالبات کے سلسلہ میں تبادلۂ خیال کیا جائے گا۔ ریاست تلنگانہ میں ملازمین کے مطالبات کی یکسوئی کے سلسلہ میں شروع کئے جانے والے اس احتجاج کے سلسلہ میں ملازمین نے بتایا کہ حکومت کی جانب سے گذشتہ 6برسوں کے دوران احتجاج صرف وعدے اور اعلانات کئے گئے لیکن اب ملازمین کے صبر کا پیمانہ لبریز ہونے لگا ہے اور کہا جا رہاہے کہ جاریہ ماہ کے دوران ملازمین کے مطالبات کی یکسوئی نہیں کی جاتی ہے تو ایسے میں ریاستی حکومت کو سنگین صورتحال کا سامنا کرنا پڑے گا اور ماہ جنوری کے دوران ملازمین کی جانب سے بڑے پیمانے پر احتجاجی لائحہ عمل تیار کرتے ہوئے احتجاج میں شدت پیدا کی جائے گی۔تلنگانہ ایمپلائز کے ذمہ داروں نے بتایا کہ ریاستی حکومت کو ملازمین کے ساتھ کئے گئے وعدوں کو پورا کرنے کیلئے مجبور ہونا پڑے گا کیونکہ ریاستی حکومت کی جانب سے اب تک ملازمین کے مطالبات کو نظر انداز کرتے ہوئے انہیں پورا کرنے کے بجائے خوف کا ماحول پیدا کیا جارہا تھا لیکن اب ملازمین حکومت سے خوفزدہ نہیں ہوں گے بلکہ اپنے حق کیلئے جدوجہد کریں گے۔