سرکاری ملازمین خوش لیکن آر ٹی سی ملازمین میں مایوسی

   

فٹمنٹ سے محرومی، آر ٹی سی کے ساتھ حکومت کے جانبدارانہ رویہ کی شکایت
حیدرآباد: تلنگانہ حکومت نے تنخواہوں اور وظیفہ پر سبکدوشی کی عمر میں اضافہ کے تحت سرکاری ملازمین اور حکومت کے مختلف اداروں میں خدمات انجام دینے والے دیگر زمرے کے ملازمین کو شامل کیا لیکن آر ٹی سی ملازمین کو فراموش کردیا گیا ۔ حکومت کے اعلانات سے ایک طرف سرکاری ملازمین میں جشن کا ماحول ہے تو دوسری طرف تلنگانہ آر ٹی سی کے ملازمین مایوسی کا شکار ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت نے ملازمین ، ٹیچرس اور عارضی ملازمین کی فکر کی ہے لیکن آر ٹی سی کے ساتھ امتیازی سلوک کیا گیا۔ تلنگانہ آر ٹی سی مزدور یونین کے جنرل سکریٹری تھامس ریڈی نے کہا کہ چیف منسٹر نے حالیہ عرصہ تک آر ٹی سی اور اس کے ملازمین کی بھلائی پر توجہ مرکوز کی تھی ۔ گزشتہ سال ڈسمبر میں انہوں نے سرکاری ملازمین کے مطابق تنخواہوں میں اضافہ کا وعدہ کیا لیکن پی آر سی سفارشات کے اعلان کے وقت اس وعدہ کو فراموش کردیا گیا۔ ان کا کہنا ہے کہ مختلف زمروں کے ملازمین کے ساتھ کارپوریشن کے ملازمین کو بھی پی آر سی کے تحت شامل کیا جانا چاہئے تھا ۔ حکومت نے آر ٹی سی ملازمین کو ذہنی الجھن میں مبتلا کردیا ہے اور آر ٹی سی ملازمین کی تنظیمیں چیف منسٹر سے اپنے اعلانات میں ترمیم کی مانگ کر رہی ہیں۔ ملازمین کے قائدین کا کہنا ہے کہ اکتوبر 2019 ء میں آر ٹی سی ملازمین کی ہڑتال کے وقت حکومت سے آر ٹی سی کو حکومت میں ضم کرنے اور پی آر سی پر عمل آوری کا مطالبہ کیا گیا تھا ۔ ہڑتال کے دوران 33 ملازمین نے خودکشی کرلی کیونکہ حکومت مطالبات تسلیم کرنے کیلئے تیار نہیں تھی۔ حکومت نے آر ٹی سی الیکشن پر دو سال کے لئے پابندی عائد کردی ہے جس کے نتیجہ میں ملازمین کی آواز دب گئی۔ حکومت سے مطالبات کی تکمیل کے سلسلہ میں مسلمہ یونین کی کمی اہم رکاوٹ بن چکی ہے۔ ملازمین کے قائدین کا مطالبہ ہے کہ اپریل 2017 ء سے زیر التواء پی آر سی کا اعلان کیا جائے اور سرکاری ملازمین و ٹیچرس کے مماثل رعایتیں دی جائیں۔