سرکاری ملازمین ووظیفہ یاب افراد کو پراویڈنٹ فنڈ کی اجرائی میں تاخیر

   

جنرل سکریٹری تلنگانہ اردو ٹیچرس اسوسی ایشن محمد مسعود الدین احمد کا ردعمل
حیدرآباد۔3۔ڈسمبر(سیاست نیوز) تلنگانہ حکومت کا خزانہ خالی ہے اورحکومت ملازمین کو ان کی جانب سے داخل کی گئی درخواستوں پر رقومات کی اجرائی سے قاصر نظر آرہی ہے کیونکہ ریاست میں وظیفہ حسن پر سبکدوش ہونے والوں کے فوائد ‘ رخصت کے علاوہ پراویڈنٹ فنڈ کے حصول کے لئے داخل کی گئی درخواستیں زیر التواء ہیں جس کی وجہ سے سرکاری ملازمین کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ محکمہ تعلیم میں خدمات انجام دینے والے تدریسی عملہ اور غیر تدریسی عملہ کے علاوہ عہدیداروں وملازمین کی جانب سے داخل کی گئی درخواستوں کی عدم یکسوئی ان کے لئے کئی مسائل کا سبب بن رہی ہے اور کہا جا رہاہے کہ محکمہ فینانس کی جانب سے ان درخواستوں کو زیر التواء رکھتے ہوئے ٹال مٹول سے کام لیا جا رہاہے۔ حکومت کی معاشی حالت کا اندازہ اس بات سے ہی لگایا جاسکتا ہے کہ حکومت کے محکمہ جات کے لئے بجٹ کی اجرائی کے احکام تو جاری کئے جا رہے ہیں لیکن بجٹ کی اجرائی میں تاخیر کی جا رہی ہے جو کہ اصولوں کی صریح خلاف ورزی کے مترادف ہے۔اسی طرح اب ملازمین کی جانب سے اس بات کی شکایات موصول ہونے لگی ہیں کہ ان کے اپنے پراویڈنٹ فنڈ یا رخصت کی پابجائی کے لئے اداکی جانے والی رقومات کے حصول کے لئے داخل کی گئی درخواستوں کی یکسوئی کی جارہی ہے لیکن رقومات کی اجرائی میں تاخیر کی جا رہی ہے اور واضح طور پر کہا جار ہاہے کہ فی الحال رقومات موجود نہیں ہیں اور اس کی جگہ حکومت بانڈس کی اجرائی کے لئے تیار ہے۔جنرل سیکریٹری تلنگانہ اردو ٹیچرس اسوسیشن جناب محمد مسعود الدین احمد نے بتایا کہ ریاست بھر میں سینکڑوں اساتذہ اور غیر تدریسی عملہ کی جانب سے پراویڈنٹ فنڈ کے حصول اور ایام رخصت کی ادائیگیوں کے لئے درخواستیں داخل کی گئی ہیں جو کہ کئی مہینوں سے زیر التواء ہیں اور ان زیر التواء درخواستوں کے سلسلہ میں استفسار پر کوئی عہدیدار مناسب جواب دینے کے لئے تیار نہیں ہے۔انہوں نے بتایا کہ اساتذہ کی جانب سے پراویڈنٹ فنڈ انتہائی ضروری مخصوص مواقع پر نکالتے ہیں جن میں شادی بیاہ یا مکان کی خریدی و تعمیر شامل ہے لیکن حکومت کی جانب سے پراویڈنٹ فنڈس کی رقومات کی اجرائی میں کی جانے والی تاخیر کے سبب اساتذہ کو اپنے بچوں کی شادی کی تقاریب ملتوی کرنے کے علاوہ دیگر کئی مسائل کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ریاستی حکومت کی جانب سے ملازمین کو ان کے حق کی ادائیگی میں ہونے والی تاخیر حکومت کی بدنامی کا سبب بن رہی ہے کیونکہ حکومت ملازمین کے مفادات کے تحفظ میں ناکام ہونے لگی ہے۔ م