ملازمین کی تنظیموں کا تمام کلکٹریٹس پر احتجاجی دھرنا کا پروگرام
حیدرآباد :۔ حکومت کی جانب سے سرکاری ملازمین اور وظیفہ یابوں کو نئے سال کے تحفہ کے طور پر تنخواہوں پر نظر ثانی کرتے ہوئے ( انٹرم ریلیف ) عبوری الاونس کا اعلان کیے جانے کا قوی امکان ہے ۔ باوثوق ذرائع سے پتہ چلا ہے کہ حکومت نے سرکاری ملازمین ، ٹیچرس اور پنشنرس کو ( آئی آر ) دینے کا اصولی طور پر اتفاق کیا ہے اور پی آر سی کمیشن سے رپورٹ طلب کرنے کی تیاری کررہا ہے ۔ رپورٹ وصول ہوتے ہی چیف منسٹر محکمہ فینانس کے عہدیداروں سے مشاورت کرنے کے بعد نئے سال میں (آئی آر ) کا اعلان کرسکتے ہیں ۔ محکمہ فینانس کے عہدیداروں کی جانب سے فیٹمنٹ دینے کی حکمت عملی پر سنجیدگی سے غور کیا جارہا ہے ۔ ناگرجنا ساگر کے مجوزہ ضمنی انتخابات اور گریجویٹ حلقہ کونسل انتخابات کے پیش نظر حکومت سرکاری ملازمین میں پائی جانے والی مایوسی اور ناراضگی کو دور کرنے پر خاص توجہ دے رہی ہے ۔ واضح رہے کہ پے ریویژن کمیشن ( پی آر سی ) کی میعاد ماہ دسمبر میں مکمل ہورہی ہے ۔ 18 مئی 2018 کو سی آر بسوال کی صدارت میں پی آر سی کمیشن کا قیام عمل میں لایا گیا تھا ۔ جس میں اما مہیشور راؤ اور محمد علی رفعت کو بحیثیت ارکان شامل کرتے ہوئے انھیں اندرون 10 تا 15 یوم رپورٹ دینے کی ہدایت دی گئی تھی ۔ اس وقت چیف منسٹر کے سی آر نے تلنگانہ کی تشکیل 2 جون کو انٹرم ریلیف اور 15 اگست کو مکمل پی آر سی دینے کا وعدہ کیا تھا ۔ لیکن اس پر ابھی تک عمل آوری نہیں ہوئی ۔ پی آر سی کمیشن کی میعاد میں ایک مرتبہ توسیع بھی کی تھی ۔ مختلف ملازمین تنظیموں کے نمائندوں نے پی آر سی کے نمائندوں سے ملاقات کی ہے جنہیں نمائندوں کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ رپورٹ تیار ہے ۔ حکومت ہدایت دیتی ہے تو پیش کردیا جائے گا ۔ تلنگانہ ایمپلائز اسوسی ایشن کے صدر سمپت کمار نے اعلان کیا ہے کہ پی آر سی پر عمل آوری کے ساتھ بقایا جات اور 2 ڈی اے کی اجرائی کا مطالبہ کرتے ہوئے 21 دسمبر کو ریاست کے تمام اضلاع کلکٹریٹس پر احتجاجی دھرنا منظم کیا جائے گا ۔ کمیشن کی میعاد میں توسیع نا دینے کا ملازمین ، ٹیچرس اور وظیفہ یاب جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے رکن سی روی نے مطالبہ کیا ہے ۔ جب کہ ٹی این جی اوز کے صدر راجندر نے مشاورت کے بعد ہی تنخواہوں پر نظر ثانی کرنے کا حکومت سے مطالبہ کیا ۔۔
