سرکاری ملازمین کو کتے کی دم کہنے پر پونم پربھاکر کی برہمی

   

تلنگانہ تحریک میں ملازمین کا اہم رول، علحدہ تلنگانہ سونیا گاندھی کی دین
حیدرآباد۔24۔ ستمبر (سیاست نیوز) سابق رکن پارلیمنٹ اور پردیش کانگریس کے ورکنگ پریسیڈنٹ پونم پربھاکر نے چیف منسٹر کی جانب سے سرکاری ملازمین کو کتوں سے تشبیہ دینے پر شدید رد عمل کا اظہار کیا۔ پربھاکر نے اپنے بیان میں کہا کہ تلنگانہ تحریک میں اہم رول ادا کرنے والے سرکاری ملازمین آج کے سی آر کو کتے دکھائی دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر نے اسمبلی میں یہ قابل اعتراض بیان دیا۔ پونم پربھاکر نے تلنگانہ تحریک کے دوران سرکاری ملازمین نے 45 دنوں تک مسلسل احتجاج کرتے ہوئے علحدہ ریاست کی تشکیل کو یقینی بنایا تھا لیکن پی آر سی کے مطالبہ پر کے سی آر نے انہیں کتے کی دم قرار دیا۔ چیف منسٹر کو چاہئے کہ اپنے بیان کی وضاحت کریں۔ انہوں نے کہا کہ اگر ملازمین اپنا حق مانتے ہیں تو اس میں برہمی کی کیا ضرورت ہے۔ سرکاری ملازمین کو پی آر سی کئی برسوں سے زیر التواء ہے۔ پونم پربھاکر نے کہا کہ عوام کون ہیں اور کتے کی دم کون ہے، اس کی وضاحت چیف منسٹر کو کرنی چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر تلنگانہ تشکیل کا سہرا اپنے سر باندھنے کی کوشش کر رہے ہیں جبکہ صدر کانگریس سونیا گاندھی کے سبب علحدہ تلنگانہ ممکن ہوسکا۔ تلنگانہ کے عوام سونیا گاندھی کے فیصلہ سے واقف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کے سی آر کی بیان بازی سے عوام انہیں سبق سکھائیں گے ۔ پونم پربھاکر نے کریم نگر کیلئے میڈیکل کالج کی منظوری کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے کسانوں کے ساتھ دھوکہ کیا ہے۔ کریم نگر کو لندن اور نیویارک میں تبدیل کرنے کا خواب دکھایا گیا لیکن گزشتہ پانچ برسوں میں پسماندگی میں کوئی کمی نہیں آئی۔ کے سی آر نے تین لاکھ کروڑ کا قرض حاصل کرتے ہوئے تلنگانہ کو معاشی بحران میں مبتلا کردیا ہے جس کے راست اثرات عوام پر مرتب ہوں گے ۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ انتخابات میں عوام سے کئے گئے وعدوں کی تکمیل میں ناکام حکومت کو سبق سکھانے کا وقت آچکا ہے ۔