سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ پر آئندہ ہفتہ فیصلہ

   

حکومت25 تا30 فیصد فٹمینٹ کی حامی، چیف سکریٹری کی رپورٹ پر فیصلہ کا انحصار
حیدرآباد۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ توقع ہے کہ سرکاری ملازمین کیلئے پے ریویژن کمیشن کی سفارشات پر آئندہ ہفتہ اعلیٰ سطحی اجلاس طلب کرتے ہوئے اہم فیصلے کریں گے۔ پی آر سی نے ملازمین کیلئے 7.5 فیصد فٹمینٹ کی سفارش کی ہے جس سے ملازمین میں سخت ناراضگی پائی جاتی ہے۔ چیف سکریٹری سومیش کمار نے ملازمین اور اساتذہ کی مختلف یونینوں کے نمائندوں سے پی آر سی سفارشات کے مسئلہ پر تبادلہ خیال کیا اور توقع ہے کہ وہ یونینوں کے مطالبات پر حکومت کو رپورٹ پیش کریں گے جس کے بعد چیف منسٹر قطعی فیصلہ کرسکتے ہیں۔ ملازمین کی یونینوں نے 63 فیصد فٹمینٹ کا مطالبہ کیا ہے اور ریاست کے کمزور مالی موقف کو دیکھتے ہوئے کم از کم 43 فیصد فٹمینٹ کی مانگ کررہے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ حکومت سرکاری خزانہ کے موقف اور وسائل میں اضافہ کی صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے کوئی فیصلہ کرے گی۔ ملازمین کی تنظیمیں فروری میں پی آر سی سفارشات پر اعلانات کا مطالبہ کررہی ہیں۔ سرکاری ذرائع نے بتایا کہ حکومت موجودہ صورتحال کے پیش نظر 25 تا 30 فیصد فٹمینٹ کا اعلان کرسکتی ہے۔ پڑوسی ریاست آندھرا پردیش نے 27 فیصد عبوری راحت کا گذشتہ سال اعلان کیا تھا۔ متحدہ آندھرا پردیش میں پی کے اگروال کی زیر قیادت پے ریویژن کمیشن نے 29 فیصد فٹمینٹ کی سفارش کی لیکن ٹی آر ایس حکومت نے 43 فیصد کا اعلان کیا تھا۔ چیف منسٹر دفتر کے ذرائع کے مطابق ملازمین اور پنشنرس کو مطمئن کرنے والا اعلان کیا جائے گا۔ چیف سکریٹری کی زیر قیادت سہ رکنی کمیٹی نے ملازمین کی تنظیموں پر واضح کردیا کہ موجودہ کمزور معاشی موقف میں 63 فیصد فٹمینٹ ممکن نہیں ہے۔ حکومت کے سخت موقف کو دیکھتے ہوئے ملازمین نے 43 فیصد کا مطالبہ کیا ہے۔ پی آر سی رپورٹ میں سرکاری ملازمین کے وظیفہ پر سبکدوشی کی عمر کو58 سے 60 سال کرنے کی سفارش کی ہے جسے حکومت منظور کرلے گی۔