سرکاری ملازمین کی تنخواہ کی کٹوتی کے بغیر ادائیگی پر الجھن برقرار

   

ماہانہ آمدنی سے زیادہ تنخواہ کے بلز، ملازمین کی تنظیموں کو مایوسی
حیدرآباد۔/26 مئی، ( سیاست نیوز) تلنگانہ میں سرکاری ملازمین کو کٹوتی کے بغیر مکمل تنخواہ کی ادائیگی کے سلسلہ میں حکومت نے کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے۔ ملازمین کی تنظیموں کی جانب سے مئی کی مکمل تنخواہ ادا کرنے کیلئے حکومت سے نمائندگی کی گئی لیکن ابھی تک سرکاری سطح پر صورتحال غیر واضح ہے۔ حکومت ریاست کے مالی موقف کو دیکھتے ہوئے مکمل تنخواہ کی ادائیگی کے حق میں دکھائی نہیں دیتی اور اگر ماہ مئی کی تنخواہ کٹوتی کے ساتھ جاری کی جاتی ہے تو اس سے سرکاری ملازمین میں ناراضگی پیدا ہوسکتی ہے۔ حکومت کا استدلال ہے کہ لاک ڈاؤن کے بعد سے سرکاری خزانہ میں آمدنی میں خاطر خواہ اضافہ نہیں ہوا۔ ریاست کی ماہانہ آمدنی 10,800 کروڑ ہے جبکہ تنخواہوں پر 3,500 کروڑ خرچ کئے جاتے ہیں۔ چیف منسٹر کے دفتر کے ذرائع کے مطابق ماہ مئی کی تنخواہیں کٹوتی کے ساتھ دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور اسی اعتبار سے سالیری بلز تیار کئے گئے ہیں۔ چیف منسٹر کی جانب سے مکمل ادائیگی کی ہدایت کے بعد ہی بلز تبدیل کئے جائیں گے۔ بتایا جاتا ہے کہ تمام محکمہ جات کے سالیری بلز ٹریژری میں جمع کردیئے گئے۔ گزشتہ دو ماہ سے کٹوتی کے ساتھ تنخواہیں ادا کی جارہی ہیں۔ حکومت اگرچہ مکمل تنخواہ ادا کرنے کے حق میں ہے تاہم سرکاری خزانہ میں آمدنی خاطر نہیں ہوئی۔ ماہانہ 10,800 کروڑ کے مقابلہ جاریہ ماہ صرف 3000 کروڑ کی آمدنی ہوئی اور تنخواہوں کیلئے 3,500 کروڑ کی ضرورت ہے۔ جیسے ہی آمدنی میں اضافہ ہوگا تنخواہوں کی مکمل ادائیگی ممکن ہوپائے گی۔ اسی دوران تلنگانہ سرکاری ملازمین کی جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے اُمید ظاہر کی ہے کہ ملازمین کو مکمل تنخواہ ادا کی جائے گی۔ حکومت نے مارچ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہ میں 50 فیصد کٹوتی جبکہ آل انڈیا سرویسس کے عہدیداروں آئی اے ایس، آئی پی ایس، آئی ایف ایس کیلئے 75 فیصد کٹوتی کے علاوہ عوامی نمائندوں بشمول چیف منسٹر، وزراء، ارکان اسمبلی، ارکان کونسل، کارپوریشنوں کے صدورنشین اور مجالس مقامی کے منتخب نمائندوں کی تنخواہوں میں 75 فیصد کی کٹوتی کی ہے۔ کلاس فورتھ، آؤٹ سورسنگ اور کنٹراکٹ ملازمین کی تنخواہوں میں محض 10فیصد کی کٹوتی کی گئی۔