نوجوانوں اور طلباء تنظیموں کا اجلاس، سرکاری محکمہ جات کی مخلوعہ جائیدادوں پر تقررات کا مطالبہ
حیدرآباد۔ تلنگانہ میں سرکاری ملازمین کے وظیفہ پر سبکدوشی کی عمر کو 60 سال کرنے سے متعلق پی آر سی سفارشات کے خلاف طلباء اور نوجوانوں کی تنظیموں نے بڑے پیمانے پر ایجی ٹیشن کی دھمکی دی ہے۔ طلباء تنظیموں کی جانب سے عثمانیہ یونیورسٹی اور دیگر یونیورسٹیز میں احتجاج کا آغاز کردیا گیا۔ آل انڈیا اسٹوڈنٹ فیڈریشن اور اسٹوڈنٹ فیڈریشن آف انڈیا نے دیگر تنظیموں سے بات چیت کے ذریعہ ایکشن پلان مرتب کیا ہے جس کے تحت ریاست بھر میں حکومت کو اس فیصلہ سے روکنے کیلئے احتجاج منظم کیا جائے گا۔ طلباء تنظیموں کو پی آر سی سفارشات پر حکومت کے موقف کا انتظار ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ لاکھوں بے روزگار اور تعلیم یافتہ نوجوان سرکاری محکمہ جات میں تقررات کیلئے پبلک سرویس کمیشن کے اعلامیہ کے منتظر ہیں۔ حکومت نے گروپ I اور گروپ II کیلئے بھی اعلامیہ جاری نہیں کیا ہے۔ طلباء تنظیموں کا کہنا ہے کہ گذشتہ سات برسوں میں پبلک سرویس کمیشن کی جانب سے محض 30 ہزار تقررات کئے گئے جبکہ سرکاری محکمہ جات میں 2 لاکھ سے زائد جائیدادیں مخلوعہ ہیں۔ سرکاری ملازمین کے وظیفہ پر سبکدوشی کی عمر میں 2 سال کی توسیع سے نوجوانوں کے مواقع متاثر ہوں گے اور ان کا مستقبل تاریک ہوجائے گا۔ حکومت کو اس طرح کے کسی بھی فیصلہ سے گریز کرنا چاہیئے۔ ایس ایف آئی کے ریاستی جنرل سکریٹری ٹی ناگرجنا نے کہا کہ گذشتہ چھ برسوں میں پبلک سرویس کمیشن نے چند اعلامیے جاری کئے ۔ ریاست میں 30 لاکھ بے روزگار نوجوان حکومت کے پاس درج ہیں ان میں سے 16.9 فیصد گریجویٹس ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 15.6 فیصد مرد اور 27.5 فیصد خواتین بے روزگار ہیں اور وظیفہ کی عمر میں اضافہ سے انہیں روزگار کی اہلیت سے محروم ہونا پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں 2017-18 کے دوران بے روزگاری کی شرح 25.7 فیصد تھی جو 2018-19 میں بڑھ کر 31.5 فیصد ہوچکی ہے۔ ریاست میں 491304 سرکاری منظورہ عہدے ہیں لیکن ان میں سے 300178 پُر ہیں۔ طلباء قائدین نے الزام عائد کیا کہ حکومت بے روزگار نوجوانوں کی زندگی سے کھلواڑ کررہی ہے۔ انہوں نے حکومت کو انتباہ دیا کہ اگر وظیفہ کی عمر میں اضافہ کیا جاتا ہے تو ریاست گیر سطح پر ایجی ٹیشن منظم کیا جائے گا۔