آنگن واڑی ورکرس کو مسائل کے حل کا تیقن، وزیر فینانس ہریش راؤ کا خطاب
حیدرآباد۔/29 اگسٹ، ( سیاست نیوز) وزیر فینانس ہریش راؤ نے آنگن واڑی ورکرس کو یقین دلایا کہ حکومت ان کے مسائل کی یکسوئی کیلئے ہر ممکن قدم اٹھائے گی۔ حضورآباد میں تلنگانہ این جی اوز اور آنگن واڑی ورکرس کی جانب سے منعقدہ اظہار تشکر جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے ہریش راؤ نے کہا کہ تلنگانہ ملک کی واحد ریاست ہے جہاں سرکاری ملازمین کے مماثل کنٹراکٹ ، آؤٹ سورسنگ اور اعزازی ملازمین کو مساوی تنخواہ دی جاتی ہے۔ کے سی آر حکومت کا کارنامہ ہے کہ اس نے آنگن واڑی ورکرس کیلئے معقول تنخواہ مقرر کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ متحدہ آندھرا پردیش میں وہ آنگن واڑی ورکرس کے احتجاجی پروگراموں سے خطاب کرچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ متحدہ آندھرا پردیش میں مسائل کے حل اور مطالبات کی تکمیل کیلئے احتجاج اور دھرنا لازمی بن چکا تھا جب تک لوگ سڑک پر نہیں آتے حکومت مسائل حل نہیں کرتی۔ لیکن تلنگانہ ریاست کی تشکیل کے بعد کسی احتجاج کے بغیر ہی کے سی آر حکومت نے تنخواہوں میں اضافہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کی زیر اقتدار گجرات ریاست میں آنگن واڑی ورکرس کیلئے ماہانہ تنخواہ 3700 روپئے ہے جبکہ تلنگانہ میں 13650 روپئے تنخواہ دی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آنگن واڑی ورکرس کی تنخواہوں میں مرکز کی حصہ داری صرف 2700 روپئے کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹی آر ایس حکومت معقول تنخواہیں ادا کررہی ہے لیکن بی جے پی قائدین اس کا سہرا اپنے سر لینے کی کوشش کررہے ہیں۔ ہریش راؤ نے کہاکہ سرکاری ملازمین کی طرح آنگن واڑی ورکرس کو بھی 30 فیصد فٹمنٹ دیا جائے گا۔ ہریش راؤ نے کہاکہ مرکز نے پٹرول، ڈیزل اور پکوان گیس کی قیمتوں میں اضافہ کردیا ہے اور عوام کو سبسیڈی میں کمی کردی گئی۔ انہوں نے آنگن واڑی ورکر س اور این جی اوز سے اپیل کی کہ وہ ایسی حکومت کا ساتھ دیں جو ہمیشہ ان کے ساتھ ہے۔ انہوں نے تیقن دیا کہ وزیر فینانس کی حیثیت سے وہ آنگن واڑی ورکرس کے مسائل کے حل کے اقدامات کریں گے۔ جو مسائل میرے دائرہ کار میں آتے ہیں انہیں حل کیا جائے گا جبکہ باقی مسائل کو چیف منسٹر سے رجوع کروں گا۔ انہوں نے بی جے پی اور کانگریس کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ کام کرنے والی حکومت پر غیر ضروری تنقید کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آنگن واڑی مراکز میں ہر سال طلبہ کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ گذشتہ بجٹ میں حکومت نے 29540 کروڑ مختص کئے جبکہ مرکزی حکومت نے24000 کروڑ کی کمی کردی ہے۔ پکوان گیس کی قیمت 950 روپئے تک اضافہ کرتے ہوئے سبسیڈی کی رقم محض 40 روپئے کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ پنشن کی رقم 200 سے بڑھاکر 2016 روپئے کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ فلاحی اقدامات میں تلنگانہ ملک میں سرفہرست ہے۔R