سرکاری ملازمین کی ناراضگی دور کرنے کروڑہا روپیوں کے فوائد کا اعلان

   

اقلیتوں اور مسلمانوں کی معلنہ اسکیمات پر عمل آوری کے لیے بجٹ کی قلت ، حکومت کا سوتیلا سلوک
حیدرآباد۔23۔جون(سیاست نیوز) حکومت تلنگانہ ریاست کے سرکاری ملازمین میں پھیلی ناراضگی کو دور کرنے کے لئے اقدامات کر رہی ہے لیکن حکومت کی جانب سے ریاست کی دوسری بڑی آبادی کے مسائل کو مکمل طور پر نظرانداز کیاجا رہاہے بلکہ ان کو سرکاری اسکیمات سے بھی محروم رکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ چیف منسٹر تلنگانہ و ریاستی محکمہ فینانس سرکاری ملازمین میں پائی جانے والی ناراضگی کو دور کرنے کے لئے کروڑہا روپئے کے فوائد کا اعلان کر رہی ہے لیکن اس کے برعکس ریاست کے اقلیتوں و مسلمانوں کے لئے معلنہ اسکیمات پر عمل آوری کے سلسلہ میں بجٹ کی عدم موجودگی کا عذر پیش کیا جا رہاہے۔ تلنگانہ ریاستی اقلیتی مالیاتی کارپوریشن کے قرضہ جات کی اجرائی ہو یا کارپوریشن کے ذریعہ ڈرائیور کم اونر اسکیم کے تحت کاروں کی تقسیم‘ اوورسیز اسکالر شپس ہوں یا فیس باز ادائیگی اسکیم‘ کارپوریشن کے ذریعہ سلائی مشینوں کی تقسیم کا معاملہ ہو یا شادی مبارک کے چیکس کی اجرائی ‘ مکہ مسجد و شاہی مسجد کے ملازمین کی خدمات کو باقاعدہ بنانے کا معاملہ ہویا تلنگانہ ریاستی وقف بورڈ کے ملازمین کی خدمات کو باقاعدہ بنانے کا فیصلہ ‘ اردو اکیڈیمی کے ذریعہ اردو کے فروغ کا مسئلہ ہویا سی ای ڈی ایم کے ذریعہ معیاری تربیت کی فراہمی ان تمام معاملات میں ریاستی حکومت کی جانب سے اختیار کیا گیا بے اعتنائی والا رویہ یہ ثابت کر رہا ہے کہ برسراقتدار جماعت کو ریاست کی اقلیتوں کے معاملات میں کوئی دلچسپی نہیں ہے بلکہ وہ پسماندہ طبقات‘ دلتوں کے علاوہ سرکاری ملازمین کو خوش کرنے میں مصروف ہے۔ حکومت کے اس رویہ سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ریاستی حکومت کو اب تلنگانہ کے مسلمانوں کے ووٹ سے کوئی مطلب نہیں ہے اور بھارت راشٹرسمیتی نے نوشتہ دیوار پڑھ لیا ہے ۔ 9 برسوں کے دوران مسلمانوں سے کئے گئے وعدوں پر عدم عمل آوری کی شکایات کے باوجود ان پر توجہ نہ دئیے جانے کے بعد اب سرکاری ملازمین پر جاری انعامات کی بارش اور مسلمانو ںکو نظرانداز کرنے کی پالیسی انتہائی افسوسناک ہے۔حکومت نے حالیہ عرصہ میں دلت بندھو اسکیم کے ذریعہ دلت خاندانو ںکو 10لاکھ روپئے ادا کرنے کی اسکیم کا آغاز کرتے ہوئے ہر اسمبلی حلقہ سے 100 دلت خاندانو ںمیں 10لاکھ روپئے تقسیم کئے اور بی سی طبقات کے لئے ایک لاکھ روپئے کی اسکیم کا اعلان کرتے ہوئے سوائے بی سی(ای)اور بی سی(سی)ے علاوہ تمام طبقات سے درخواستوں کی وصولی کے ذریعہ انہیں 1لاکھ روپئے جاری کئے جا رہے ہیں۔ جبکہ تلنگانہ ریاستی اقلیتی مالیاتی کارپوریشن سے اقلیتی نوجوانوں کو جاری کئے جانے والے قرض کے لئے 20ہزار تا60ہزار روپئے کے ڈیمانڈ ڈرافٹ وصول کئے جا رہے ہیں اور انہیں جاری کی جانے والی رقومات قابل واپسی ہیں۔م