سرکاری ملازمین یکم ؍ جولائی کو نئی اضافہ شدہ تنخواہ حاصل نہیں کرپائیں گے

   

سافٹ ویر اپ ڈیٹ نہ ہونے کی وجہ سے پرانی اسکیل کے ساتھ بلز کی تیاری
حیدرآباد : سرکاری ملازمین کو اس مرتبہ بھی مایوسی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اضافہ شدہ 30 فیصد فٹمینٹ تنخواہ یکم ؍ جولائی کو وصول نہیں ہوگی۔ حکومت کے تمام محکمہ جات پرانی پے اسکیل کے تحت ہی بلز تیار کررہے ہیں۔ ڈسٹرکٹ ٹریژری آفسوں اور دونوں شہروں کے پے اینڈ اکاؤنٹس آفسوں کو بلز پہنچ رہے ہیں جس سے سرکاری ملازمین اور ٹیچرس میں مایوسی کی لہر پائی جارہی ہے۔ سرکاری ملازمین لمبے عرصہ سے پی آر سی کا انتظار کررہے ہیں۔ برسوں بعد پی آر سی کی رپورٹ وصول ہوئی۔ مہینوں قبل چیف منسٹر نے 30 فیصد فٹمینٹ دینے کا اعلان کیا لیکن اس پر فوری عمل آوری نہیں ہوئی۔ جاریہ ماہ جی او کی اجرائی عمل میں آئی اور ماہ جون سے اس پر عمل کرنے اور یکم ؍ جولائی سے اضافہ شدہ تنخواہیں ادا کرنے کے احکامات جاری کئے گئے مگر یکم ؍ جولائی سے نئی اضافہ شدہ تنخواہ ملنے کا امکان نہیں ہے کیونکہ اس معاملے میں دو دن قبل ہی تنخواہوں میں اضافہ سے متعلق محکمہ فینانس نے رہنمایانہ خطوط کے ساتھ جی او کی اجرائی عمل میں لائی، جس کے مطابق ڈرائنگ اینڈ ڈسٹریبیوشن عہدیداروں (ڈی ڈی او) کو تنخواہوں کا حساب کتاب کرنا ہے۔ تاہم سکریٹریٹ سے رمبوط سنٹرل سرور میں مختلف محکمہ جات کے نئے تنخواہیں اپ ڈیٹ نہیں ہوئے۔ ٹریژری کے عہدیداروں نے بتایا کہ اس کیلئے ابھی وقت درکار ہے۔ اضلاع ڈی ڈی اوز کی جانب سے ہر ماہ 15 تا 25 تاریخ تک سب ٹریژری آفسوں (ایس ٹی او) کو اپنے ماتحت ملازمین کی تنخواہوں سے متعلق بلز جمع کردیتے ہیں۔
وہی دونوں شہروں سے متعلق محکمہ جات کے سربراہوں کی جانب سے ہر ماہ 22 تاریخ سے قبل پے اینڈ اکاؤنٹس آفسوں میں بلز کو جمع کیا جاتا ہے۔ یہ تمام کارروائی آن لائن میں ہوتی ہے۔ ہارڈ کاپیز متعلقہ ٹریژریز پے اینڈ اکاؤنٹس آفسوں میں جمع کی جاتی ہے جس کا جائزہ لینے کے بعد سرکاری ملازمین کے بینک کھاتوں میں تنخواہیں جمع کی جاتی ہے۔ تاہم تنخواہوں کے سافٹ ویر کو اپ ڈیٹ نہیں کرنے کی وجہ سے نئی تنخواہ یکم ؍ جولائی کو ملنے کا امکان نہیں ہے جس کی وجہ سے پرانی تنخواہوں کے مطابق بلز تیار کرکے روانہ کئے جارہے ہیں۔