سرکاری وکیل کی تقرری میں تاخیر پر عدالت برہم

   

ممبئی : برطرف انکاونٹر اسپیشلسٹ پولیس افسر سچن وازے اور دیگر پولس کانسٹبلوں کے خلاف ممبئ کے گھاٹ کوپر میں ہوئے بم دھماکوں کے ملزم خواجہ یونس کی پولیس حراست میں ہوئی موت کے مقدمہ کی سماعت کرنے والی خصوصی سٹی سول سیشن عدالت نے وکیل استغاثہ کی تقرری میں ہونے والی تاخیر کا سخت نوٹس لیتے ہوئے مہاراشٹر حکومت پر برہمی کا اظہار کیا اور کہا کہ گذشتہ 12سالوں سے مقدمہ کی سماعت متاثر ہورہی ہے اور سپریم کورٹ نے بھی اس معاملے میں جلد ازجلد مقدمے کی سماعت کرنے کے احکامات جاری کئے ہیں ساتھ ہی ساتھ اس عدالت نے بھی گذشتہ سال جولائی اگست میں بھی ہدایت دی تھی کہ ریاستی حکومت خصوصی وکیل استغاثہ کی تقرری کرے لیکن ابھی تک اس پر عمل در آمد نہیں کیا گیا۔سیشن جج ڈاکٹر یو جے مورے نے کہا کہ لگاتار یاد دہانی اورنوٹس جاری کرنے کے باوجود سی آئی ڈی نے ابھی تک ٹرائل کے جلد از جلد مکمل کرنے کے لیئے کوئی اقدامات نہیں کیئے ہیں، سی آئی ڈی نے اس مقدمہ کو لیکر غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کیا ہے ۔عدالت نے مزید کہا کہ گذشتہ سال سی آئی ڈی نے وکیل استغاثہ کو مقدمہ سے ہٹا دیا تھا جس کے بعد انہیں فوراً کسی دوسرے سرکاری وکیل کی تقرری کرنا تھی۔