سرکاری و خانگی ملازمین کی دفاتر کو آمد و رفت پر اخراجات میں اضافہ

   

پبلک ٹرانسپورٹ ، آر ٹی سی ، میٹرو ریل ، ایم ایم ٹی ایس ٹرین کی مسدودی سے مسافروں کو پریشانی
حیدرآباد : حیدرآباد میں پبلک ٹرانسپورٹ ، آر ٹی سی بس ، میٹرو ریل ، اور ایم ایم ٹی ایس ٹرین کی خدمات بند ہونے کی وجہ سے سرکاری و خانگی کمپنیوں اور غیر منظم شعبہ میں خدمات انجام دینے والے 40 لاکھ افراد گھروں سے آفسوں یا کام کے مقامات تک پہونچنے کے لیے ٹرانسپورٹ اخراجات میں زبردست اضافہ ہوگیا ہے ۔ ایک ہی آفس یا کمپنی میں خدمات انجام دینے والے افراد ذاتی کاروں اور بائیکس میں شیرینگ کو ترجیح دیتے ہوئے اپنے سفری اخراجات کو کم کرنے کو زیادہ اہمیت دے رہے ہیں ۔ کورونا سے خوفزدہ افراد زائد مالی بوجھ کو برداشت کرتے ہوئے اپنے ذاتی گاڑیوں پر سفر کرنے کو ترجیح دے رہے ہیں ۔ کورونا بحران اور لاک ڈاؤن نے غریب و متوسط طبقہ کی زندگیوں پر بہت زیادہ اثر انداز ہوا ہے ۔ ملازمت اور کام کاج کے لیے گھروں سے باہر نکلنے والوں کے اخراجات میں اضافہ ہوگیا ہے ۔ کورونا اور لاک ڈاؤن کی وجہ سے گریٹر حیدرآباد میں پبلک ٹرانسپورٹ جیسے آر ٹی سی بسوں ، میٹرو ریل اور ایم ایم ٹی ایس ٹرین کو احتیاطی طور پر بند کردیا ہے ۔ گریٹر حیدرآباد میں جس تیزی سے کورونا وائرس کے معاملات میں اضافہ ہورہا ہے اس کو دیکھ کر اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ پبلک ٹرانسپورٹ کا بہت جلد بحال ہونا ممکن نہیں ہے ۔ کام کاج کے لیے گھروں سے باہر نکلنے والے عوام کو خانگی ٹرانسپورٹ ، یا اپنی گاڑیوں پر زیادہ انحصار کرنا پڑ رہا ہے ۔ جس سے آفسوں اور دوسرے کام کاج کرنے والے عوام کو کافی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ۔ شہر حیدرآباد میں سرکاری و خانگی شعبوں میں خدمات انجام دینے والے افراد کو پبلک ٹرانسپورٹ کے استعمال پر ماہانہ 800 تا 1200 روپئے کے مصارف تھے ۔ تاہم پبلک ٹرانسپورٹ کی خدمات بحال نہ ہونے سے سفری اخراجات میں دو گنا اضافہ ہوگیا ہے ۔ زیادہ تر افراد پبلک ٹرانسپورٹ کا ماہانہ پاسیس بناکر اس کی تجدید کراتے اور ایک سے زیادہ مرتبہ سفر کیا کرتے تھے ۔ اب انہیں خانگی ٹرانسپورٹ ، آٹو ، کیاب یا ذاتی گاڑیاں استعمال کرنا پڑرہا ہے ۔ عام دنوں کے بہ نسبت آٹو اور دوسری خانگی گاڑیوں نے اپنے کرایوں میں دو گنا اضافہ کردیا ہے ۔ لاک ڈاؤن سے قبل 20 روپئے وصول کرنے والے آٹو ڈرائیورس اب 40 روپئے وصول کررہے ہیں ۔ شام میں 8 بجے کے بعد 50 روپئے طلب کررہے ہیں ۔ کورونا کے خوف سے زیادہ تر لوگ آٹو میں بیٹھنے سے بھی گھبرا رہے ہیں ۔ ذاتی گاڑیاں استعمال کرنے والوں کے اخراجات بھی بڑھ گئے ہیں ۔ گذشتہ ایک ماہ سے مسلسل پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ ہورہا ہے ۔ ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ سے 20 فیصد اخراجات میں اضافہ ہوگیا ہے ۔ ذاتی گاڑیوں کے آفسوں کے علاوہ دوسرے کاموں کو بھی استعمال کرنے کی وجہ سے ان کے مینٹننس اور سرویسنگ کے اخراجات بھی بڑھ گئے ہیں ۔ ایسی صورت حال میں ایک ہی آفس یا کمپنی میں کام کرنے والے چار افراد کار میں شیرینگ کو ترجیح دے رہے ہیں ۔ ساتھ ہی بائیک میں بھی شیرینگ کررہے ہیں ۔ آفس کے لیے تو ایک کار استعمال ہورہی ہے مگر دوسرے کاموں کے لیے دوبارہ اپنی ذاتی گاڑیاں استعمال کرنے کے لیے مجبور ہورہے ہیں ۔۔