حیدرآباد ۔ 28 ۔ نومبر : ( راست ) : حال ہی میں ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر حیدرآباد کی جانب سے سرکاری و نیم سرکاری مدارس میں صبح کی اسمبلی کے دوران ’ وندے ماترم ‘ کو لازمی طور پر پڑھائے جانے سے متعلق احکامات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے امیر حلقہ جماعت اسلامی ہند تلنگانہ جناب حامد محمد خاں نے کہا کہ ڈی ای او حیدرآباد کی جانب سے جاری کئے گئے احکامات غیر دستوری اور اقلیتوں کے بنیادی حقوق کے خلاف ہیں ۔ اس کے علاوہ یہ احکام 2017 میں سپریم کورٹ کی جانب سے دئیے گئے احکامات کے بھی خلاف ہیں۔ وندے ماترم کے سلسلہ میں مسلمان یہ سمجھتے ہیںکہ اس کے الفاظ اور افکار ان کے بنیادی عقیدہ سے ٹکراتے ہیں چنانچہ ایک ایسے ملک میں جہاں دستوری اعتبار سے ہر مذہب کے ماننے والوں کو اپنے مذہب اور عقیدہ پر آزادی کے ساتھ عمل کرنے کا حق دیا گیا ہے وہاں اس طرح کے احکامات کا اجراء اور انہیں زبردستی کسی ایسی چیز کے پڑھنے کو لازم قرار دینا جو ان کے بنیادی عقیدہ کے خلاف ہے ، دستور میں دئیے گئے حقوق پر حملہ کی طرح ہے ۔ چنانچہ اس طرح کے احکامات سے مسلم طبقہ میں سخت بے چینی پیدا ہوگئی ہے جو فطری ہے ۔ سرکاری عہدیداروں کو چاہئے کہ اس طرح کے احکامات جاری کرنے سے احتراز کریں ۔ جس سے کسی بھی طرح کے مسائل پیدا ہونے اور کسی کے بھی مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچنے کا خدشہ ہو ۔ امیر حلقہ نے اس موقع پر مزید کہا کہ ریاست تلنگانہ میں ہندو مسلم اتحاد کی صورتحال پورے ملک کے لیے مثالی ہے لیکن بعض عناصر وقفہ وقفہ سے اس طرح کے حرکات سے اس مثالی ماحول کو خراب کرنے کی سازش کرتے رہتے ہیں جس سے ریاستی حکومت کو چوکنا رہنے کی ضرورت ہے ۔ چنانچہ امیر حلقہ نے ریاستی حکومت خصوصا وزیر تعلیم محترمہ سبیتا اندرا ریڈی سے اپیل کی کہ وہ فوری طور پر اس بات کا نوٹس لیتے ہوئے ان احکامات کو واپس لینے کا حکم جاری کریں اور طلباء کو صبح کے اسمبلی کے دوران وندے ماترم پڑھنے کے لزوم کو برخاست کرنے کی ہدایات جاری کریں ۔۔