سرکاری ٹسٹنگ مراکز پر کٹس کی کمی کے باعث عوام کو مشکلات

   

گھنٹوں تک قطار میں انتظار، کورونا کے مریضوں کی کھلے عام نقل و حرکت
ٹسٹ کی رپورٹ کیلئے تین دن درکار، انتظار کے بغیر علاج شروع کرنے ڈاکٹرس کو ہدایت
حیدرآباد: تلنگانہ میں کورونا ٹسٹوں کے بارے میں عوام میں شعور بیداری کے بعد حکومت کیلئے سرکاری مراکز پر ٹسٹنگ مکمل کرنے میں دشواریوں کا سامنا ہے ۔ کیسیس میں اضافہ کے بعد بڑی تعداد میں لوگ روزانہ ٹسٹوں کے لئے سرکاری مراکز پر رجوع ہورہے ہیں لیکن ہر مرکز پر روزانہ محدود تعداد میں کٹس فراہم کی جاتی ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ بستی دواخانوں اور پرائمری ہیلت سنٹرس پر روزانہ تقریباً 500 افراد ٹسٹ کے لئے رجوع ہورہے ہیں جبکہ حکام کی جانب سے مراکز پر 100 تا 200 کٹس فراہم کئے جارہے ہیں ۔ ٹسٹوں کیلئے ہجوم سے نمٹنے میں حکام خود کو بے بس محسوس کر رہے ہیں۔ مرکزی حکومت سے تلنگانہ کو زائد ٹسٹنگ کٹس کی سربراہی کی درخواست کی گئی ہے ۔ حکام کا کہنا ہے کہ روزانہ محدود تعداد میں ٹسٹوں کے نتیجہ میں ایسے افراد جن میں کورونا کی علامات موجود ہیں لیکن ان کا ٹسٹ نہیں کیا گیا ، وہ کھلے عام عوام کے درمیان گھوم رہے ہیں جو دوسروں کیلئے خطرہ سے خالی نہیں ۔ ٹسٹ نہ کئے جانے پر کورونا کا شکار مریض دوبارہ گھر لوٹ جاتا ہے جس کے نتیجہ میں گھر کے دیگر افراد کورونا سے متاثر ہوسکتے ہیں۔ ایسی صورتحال میں حکام نے ڈاکٹرس کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ٹسٹ رپورٹ کا انتظار کئے بغیر ابتدائی علامات کے ساتھ ہی مریضوں کا کووڈ علاج شروع کردیں۔ طبی ماہرین کی جانب سے سرکاری اور خانگی دواخانوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ ٹسٹ کی رپورٹ کے لئے دو تین دنوں تک انتظار کرنے کے بجائے فوری طور پر علاج کا آغاز کردیں۔ بتایا جاتا ہے کہ سرکاری اور خانگی مراکز پر آر ٹی پی سی آر ٹسٹ کیلئے روزانہ ہجوم پایا جاتا ہے کہ ایسے میں ٹسٹ رپورٹ کی اجرائی میں تاخیر ہورہی ہے۔ رپورٹ کے لئے عوام کو دو سے تین دنوں تک انتظار کرنا پڑ رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ وقفہ خطرہ کی گھنٹی ہے کیونکہ اگر کسی میں وائرس موجود رہا اور وہ ٹسٹ رپورٹ کے انتظار تک علاج سے محروم رہے تو وہ دوسروں میں بآسانی وائرس کو پھیلانے کا سبب بن سکتا ہے ۔ ڈاکٹرس کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ علامات کے ملتے ہی فوری علاج کا آغاز کردیں۔ ریاپڈ انٹیجن ٹسٹ کا نتیجہ اندرون 30 منٹ حاصل ہوتا ہے لیکن ڈاکٹرس اس کے نتیجہ پر بھروسہ کرنے تیار نہیں۔ آر ٹی پی سی آر ٹسٹ کے لئے طویل قطاریں دیکھی جارہی ہیں۔ کئی ڈاکٹرس نے کورونا کے مضر اثرات کا پتہ چلانے کیلئے سی ٹی اسکیان کو بہتر ٹسٹ قرار دیا ہے۔