سرکاری ہاسپٹلس کے پی جی ڈاکٹرس بھی کورونا سے متاثر

   

5 ڈاکٹرس کا ٹسٹ پازیٹیو، کٹس اور دیگر سہولتوں کی عدم فراہمی کی شکایت
حیدرآباد۔ یکم جون (سیاست نیوز) تلنگانہ میں کورونا وائرس سے پی جی ڈاکٹرس کے متاثر ہونے کے واقعات میں دن بہ دن اضافہ ہورہا ہے۔ شہر کے دو ہاسپٹلس میں برسر خدمات دو پی جی ڈاکٹرس کورونا پازیٹیو پائے گئے۔ اس طرح متاثرہ ڈاکٹرس کی تعداد بڑھ کر 5 ہوگئی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ پیٹلہ برج میٹرنٹی ہاسپٹل سے تعلق رکھنے والے ایک پی جی ڈاکٹر گائیناکالوجسٹ اور عثمانیہ جنرل ہاسپٹل کے ڈرمٹالوجی کو کورونا پازیٹیو پایا گیا۔ عثمانیہ میڈیکل کالج میں 5 مزید پی جی ڈاکٹرس کے نمونے حاصل کئے گئے جنکی رپورٹ کا انتظار ہے۔ یہ ڈاکٹرس اپنے متعلقہ ہاسپٹلس میں باقاعدہ ڈیوٹی انجام دے رہے تھے، عام مریضوں کے معائنوں کے دوران انہیں کورونا لاحق ہوگیا۔ پی جی ڈاکٹرس کو شکایت ہے کہ ہاسپٹلس میں ماسک، گلوس اور پی ٹی ای کٹس کی عدم فراہمی کے نتیجہ میں وائرس ڈاکٹرس میں پھیل رہا ہے۔ بتایا گیا کہ سرکاری ہاسپٹلس میں زیادہ ڈاکٹرس اپنے طور پر احتیاطی تدابیر اختیار کررہے ہیں۔ جونیئر ڈاکٹرس کو کٹس اور دیگر سہولتوں کی فراہمی حکام کی لاپرواہی سے جونیئر ڈاکٹرس اسوسی ایشن نے ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ اسوسی ایشن نے کہا کہ ریسیڈنٹ ڈاکٹرس میں خوف کا ماحول پایا جاتا ہے کیوں کہ وہ روزانہ بڑی تعداد میں عام مریضوں کا معائنہ کرتے ہیں۔ عثمانیہ ہاسپٹل میں کورونا لاک ڈائون کے بعد سے آئوٹ پیشنٹ مریضوں کی تعداد میں زبردست اضافہ ہوگیا ہے۔ خانگی ہاسپٹلس میں آئوٹ پیشنٹ شعبہ جات بند ہونے کے سبب مریض عثمانیہ ہاسپٹل رجوع ہونے پر مجبور ہیں۔ روزانہ 2 ہزار سے زیادہ مریض آئوٹ پیشنٹ ڈپارٹمنٹ سے رجوع ہورہے ہیں اور ہر ڈاکٹر کو کم از کم اپنی شفٹ میں 40 تا 50 مریضوں کا سامنا ہے۔ مریض کے ساتھ ان کے افراد خاندان بھی موجود ہوتے ہیں۔ ان میں سے کسی ایک میں بھی کورونا کی علامتیں پائی گئیں تو ڈاکٹرس اور پیرا میڈیکل اسٹاف بالخصوص نرسس کورونا سے متاثر ہوسکتی ہیں۔ جونیئر ڈاکٹرس اسوسی ایشن نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ وہ ڈاکٹرس کے تحفظ کے لیے اقدامات کرے۔