سرینواس ریڈی اور جوپلی کرشنا راؤ کی کانگریس میں شمولیت کاامکان

   

قائدین سے رابطہ ، سیکولر نظریات کے حامل قائدین کو بی جے پی میں گھٹن

حیدرآباد۔/31 مئی، ( سیاست نیوز) بی آر ایس کے ناراض قائدین پی سرینواس ریڈی اور جوپلی کرشنا راؤ کی شمولیت کے بارے میں بی جے پی قیادت مایوس دکھائی دے رہی ہے۔ رکن اسمبلی ایٹالہ راجندر کی جانب سے ہنگامی طور پر ناراض قائدین سے ملاقات کا کوئی حوصلہ افزاء نتیجہ برآمد نہیں ہوا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ناراض قائدین نے خود ایٹالہ راجندر کو بی جے پی سے علحدگی اختیار کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ سرینواس ریڈی اور کرشنا راؤ نے اپنے حامیوں کے ساتھ اجلاس منعقد کرتے ہوئے کانگریس میں شمولیت کا اشارہ دیا۔ ان کا ماننا ہے کہ کے سی آر حکومت کو شکست دینے کی صلاحیت صرف کانگریس پارٹی میں ہے۔ کرناٹک کے نتائج کے بعد سرینواس ریڈی اور جوپلی کرشنا راؤ کا جھکاؤ صاف طور پر کانگریس کی طرف دکھائی دے رہا ہے۔ متحدہ کھمم اور محبوب نگر اضلاع میں دونوں قائدین مضبوط موقف رکھتے ہیں۔ بی جے پی کو امید تھی کہ ناراض قائدین امیت شاہ کی موجودگی میں شمولیت اختیار کریں گے لیکن کرناٹک کے نتائج تک انتظار کرنے والے ناراض قائدین نے یہ کہتے ہوئے راجندر کو مایوس کردیا کہ کانگریس ہی کے سی آر کو شکست دینے کی صلاحیت اور طاقت رکھتی ہے۔ دونوں قائدین نے اگرچہ کھل کر اپنا موقف واضح نہیں کیا ہے لیکن قریبی ذرائع کا ماننا ہے کہ راہول گاندھی کی دورہ امریکہ سے واپسی کے بعد شمولیت کا اعلان کیا جائے گا۔ ان دونوں قائدین کے ہمراہ بی جے پی کے بعض ناراض قائدین بھی کانگریس میں شمولیت اختیار کرسکتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ کانگریس اور بی آر ایس سے بی جے پی میں شمولیت اختیار کرنے والے قائدین کو ہندوتوا ایجنڈہ کے نتیجہ میں دشواریوں کا سامنا ہے۔ر