گریٹر حیدرآباد کی من مانی تقسیم کی مخالفت، 17 جنوری کو احتجاجی مظاہرے کرنے کا اعلان کیا
حیدرآباد ۔ 3 جنوری (سیاست نیوز) بی آر ایس کے ڈپٹی فلور لیڈر ٹی سرینواس یادو نے گریٹر حیدرآباد کی من مانی تقسیم کی مخالفت کرکے چیف منسٹر ریونت ریڈی کو چیلنج کیا۔ اگر ہمت ہے تو حیدرآباد کا نام تبدیل کرکے دکھائیں۔ تلنگانہ بھون میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سرینواس یادو نے الزام عائد کیا کہ حکومت بغیر کسی تکنیکی مطالعے اور عوامی نمائندوں سے مشاورت کے جڑواں شہروں حیدرآباد اور سکندرآباد کے تاریخی وجود کو نقصان پہنچانے کی کوشش کررہی ہے۔ ٹی سرینواس یادو نے کہا کہ 24 اسمبلی حلقوں میں پر مشتمل گریٹر حیدرآباد کی تقسیم میں نہ تو عوامی منتخب نمائندوں کی رائے حاصل کی گئی اور نہ ہی زمینی حقائق کو مدنظر رکھا گیا۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے پوری تقسیم محض گوگل میاپس دیکھ کر طئے کی گئی ہے۔ سرینواس یادو نے یاد دلایا کہ بی آر ایس کے دورحکومت میں انتظامی سہولت کیلئے 150 ڈیویژنس تشکیل دیئے گئے تھے۔ انہوں نے کہا کہا سکندرآباد کی ایک طویل تاریخی اور تہذیبی شناخت ہے اور اسی شناخت کو مٹانے کے ارادے سے جڑواں شہروں کے تصور کو ختم کیا جارہا ہے۔ ٹی سرینواس یادو نے سکندرآباد کارپوریشن تشکیل دینے کا مطالبہ کیا اور اس سلسلہ میں 17 جنوری کو سکندرآباد ریلوے اسٹیشن کے بشمول مختلف مقامات پر بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے کرنے کا اعلان کیا۔ ضرورت پڑنے پر قانونی اور عدالتی راستہ بھی اختیار کیا جائے گا۔ اسمبلی کی کارروائی پر سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہوںنے اپنے سیاسی کیریئر میں کئی چیف منسٹرس اور اسپیکرس کو دیکھا ہے لیکن موجودہ طرزعمل جیسا کبھی نہیں دیکھا۔2
