370 کی تنسیخ کے بعد میں جموں وکشمیر میں پہلی بار عالمی سطح کا اجلاس‘ سیاحت سے وابستہ افراد کو اچھی توقعات
سرینگر: سرینگر میں پیر 22مئی سے G20سیاحتی ورکنگ گروپ کے اجلاس کا آغاز ہورہا ہے جو 24مئی تک جاری رہے گا ۔حساس ریاست جموں و کشمیر میں بین الاقوامی سطح کے اجلاس کیلئے سخت سیکوریٹی انتظامات کئے گئے ہیں ۔اجلاس کے پیش نظر سرینگر اور اس کے اطراف و اکناف کے بعض اسکولوں کو تعطیل کا اعلان کردیا گیا ہے ۔سیاحت پر ورکنگ گروپ میٹنگ کے لیے 22 مئی سے 24 مئی تک کشمیر کا دورہ کرنے والے تقریباً 60 غیر ملکی اور مقامی مندوبین کے سفر کے پروگرام میں آخری لمحات میں تبدیلی کی گئی ہے۔ پلان میں ردوبدل سیکیورٹی اداروں کے مشورے پر کیا گیا ہے۔حکام نے بتایا کہ دچیگام نیشنل پارک، سری نگر، اور شمالی کشمیر میں سیاحتی مقام گلمرگ کے سیاحتی مقامات کے سیاحتی دورے کو ختم کر دیا گیا ہے۔منتظمین نے، سینئر سرکاری عہدیداروں کے مطابق، پولو ویو مارکیٹ کو دکھانے کا فیصلہ کیا ہے، جو وادی کا پہلا پیدل چلنے والوں کے لیے بازار ہے، جسے حال ہی میں 980 کروڑ روپے کے سری نگر اسمارٹ سٹی پروجیکٹ کے تحت تیار کیا گیا کو، وفود کے لیے کثیر سہولیات کے ساتھ کھلا گیاہے۔دکانداروں سے کہا گیا ہے کہ وہ 22 مئی سے 24 مئی تک تینوں دنوں میں صبح 9 بجے کے قریب اپنی دکانوں پر رپورٹ کریں۔ انہیں علیحدگی پسندوں کی کال پر “کسی بھی طرح کے بند کا مشاہدہ کرنے” کے خلاف مشورہ دیا گیا ہے، کئی دکانداروں نے میڈیاکو یہ بات بتا ئی ۔ انہوں نے مزید کہا، “ہمیں خصوصی پاس فراہم کیے گئے ہیں تاکہ ہمیں سیکیورٹی چوکیوں کو عبور کرنے کی اجازت دی جائے۔۔شہرہ آفاق جھیل ڈل کے کناروں پر واقع شیر کشمیر انٹرنیشنل کنوکیشن سنٹر میں اجلاس منعقد ہوگا۔جی ٹونٹی اجلاس کو مد نظر رکھتے ہوئے پولیو ویو سے لے کر ایس کے آئی سی سی تک سبھی تعمیراتی کام مکمل کئے گئے ہیں۔متعلقہ حکام کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی سطح کے اس اجلاس کے انعقاد کو کامیابی اور خوش اسلوبی کے ساتھ یقینی بنانے کے لئے تمام تر تیاریوں کو حتمی شکل دی گئی ہے ۔سری نگر میں منعقد ہونے والے اس بین الاقوامی سطح کے اجلاس کے لئے سیکورٹی کے فقیدالمثال انتظامات کئے گئے ہیں۔سرینگر میں جہاں اس اجلاس کے پیش نظر ہائی الرٹ جاری کیا گیا ہے وہیں جھیل ڈل اور ‘ایس کے آ ئی سی سی’ کو سیکورٹی فورسز نے پوری طرح سے اپنی تحویل میں لے لیا ہے ۔شہر کے قرب وجوار میں کسی بھی ممکنہ ناخوشگوار واقعے کو ناکام بنانے کے لئے بھاری تعداد میں سیکورٹی اہلکاروں کو تعینات کیا گیا ہے ۔علاوہ ازیں سی آر پی ایف کمانڈوز، مارکوز اور بلیک کیٹ کمانڈوز کی جانب سے جھیل ڈل اوراس کے ملحقہ علاقوں میں مورک ڈرل کا اہتمام کیا جا رہا ہے ۔جھیل ڈل کے اردگرد علاقوں پر خصوصی ڈرون کیمروں کے ذریعے نظر گزر رکھی جارہی ہیں۔جموں وکشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کا کہنا ہے کہ اس اجلاس یہاں کے سیاحتی شعبوں کومزید فروغ ملے گا اور یہ اجلاس یہاں کی معیشت مستحکم ہونے میں مدد گار ثابت ہوگا۔انہوں نے کہا کہ اس اجلاس سے کشمیر کی روایتی مہمان نوازی بھی متعارف ہوگی۔ادھر وادی میں شعبہ سیاحت سے جڑے لوگ بھی اجلاس سے خوش نظر آ رہے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ اس اجلاس سے شعبے کو تقویت ملے گی جس سے نہ صرف ہمارا روز گار پائیدار ہوگا بلکہ مزید لوگوں کو بھی روزگار ملے گا۔قابل ذکر ہے کہ 5 اگست 2019 میں دفعہ 370 کی تنسیخ کے بعد میں جموں وکشمیر میں پہلی بار اس نوعیت کا اجلاس منعقد ہو رہا ہے ۔دنیا بھر میں اپنے قدرتی حسن و جمال سے مشہور وادی کشمیر تاریخی جی ٹونٹی سربراہی اجلاس کے مندوبین کی مہمان نوازی کے لئے چشم براہ ہے ۔جموں وکشمیر کی دارلحکومت سری نگر میں اس سلسلے میں تمام تر تیاریوں سیکورٹی انتظامات سے لے کر شہر کی تزئین و آرائش تک، کو حتمی شکل دی گئی ہے اور شہر پوری آب و تاب کے ساتھ اجلاس کی میز بانی کیلئے مہمانوں کا منتظر ہے ۔مہمانوں کے پرتپاک استقبال کے لیے جگہ جگہ خیر مقدمی بینر اور ڈیڑھیاں آویزاں کی گئی ہیں جبکہ شہرہ آفاق جھیل ڈل کے کنارے پرمنعقد ہونے والے اس اجلاس کے لئے اس فراخ جھیل کے حسن میں بھی مزید چار چاند لگادئے گئے ۔شہر کو جاذب نظر بنانے کے لئے جہاں سڑکوں پر میگڈم بچھایا گیا ہے وہیں فٹ پاتھوں کو مختلف قسم کے پھولوں کے چمن تیار کرکے سجایا گیا ہے اور دیواروں کو بھی مختلف قسموں کی پینٹنگ اور رنگ و روغن سے آراستہ و پیراستہ کیا گیا ہے ۔سری نگر سمارٹ سٹی کے تحت ترجیحی بنیادوں پر لئے گئے پراجکٹس کو مکمل کیا جا رہا ہے جن میں سے بعض کو عوام کے نام وقف بھی کر دیا گیا ہے ۔
ان پراجکٹس میں پولو ویو مارکیٹ اور جہلم ریور فرنٹ خاص طور پر قابل ذکر ہیں جن سے شہر کی خوبصورتی دو بالا ہوگئی ہے ۔