سری سیلم ذخیرہ آب میں برقی تیاری، اے پی حکومت پر تنقید

   

تلنگانہ کے مفادات پر کوئی سمجھوتہ نہیں، وزیر اکسائز کی پریس کانفرنس
حیدرآباد 31 مارچ (سیاست نیوز) وزیر سیاحت و اکسائز جوپلی کرشنا راؤ نے سری سیلم ذخیرہ آب سے برقی کی تیاری پر آندھراپردیش حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ گاندھی بھون میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے جوپلی کرشنا راؤ نے الزام عائد کیاکہ آندھراپردیش حکومت سری سیلم ذخیرہ آب سے پانی کے استعمال سے متعلق قواعد کی خلاف ورزی کررہی ہے۔ سری سیلم میں برقی تیاری سے تلنگانہ کے مفادات متاثر ہوں گے۔ ارکان اسمبلی ومشی کرشنا اور راجیش ریڈی کے ہمراہ جوپلی کرشنا راؤ نے کہاکہ قواعد کے مطابق سری سیلم ذخیرہ آب میں پانی کی سطح 834 فٹ ہونے پر برقی کی تیاری پر امتناع عائد رہتا ہے۔ اُنھوں نے الزام لگایا کہ آندھراپردیش حکومت قواعد کی خلاف ورزی کرتے ہوئے تلنگانہ کے آبپاشی اور پینے کے پانی کی ضرورتوں میں ناانصافی کی مرتکب ہوئی ہے۔ اُنھوں نے تشویش کا اظہار کیاکہ اِس بارے میں آندھراپردیش حکومت سے بارہا نمائندگی کے باوجود برقی تیاری کا کام جاری ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ متحدہ محبوب نگر ضلع سے تعلق رکھنے والے عوامی نمائندوں نے آندھراپردیش حکومت کی ناانصافیوں کے خلاف احتجاج منظم کیا۔ ریاستی وزیر نے بتایا کہ آندھراپردیش حکومت کی خلاف ورزیوں کی روک تھام کے لئے کانگریس حکومت ہرممکن قدم اُٹھارہی ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ تلنگانہ کے مفادات کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ اُنھوں نے انتباہ دیا کہ خلاف ورزی کی صورت میں نہ صرف قانونی چارہ جوئی کی جائے گی بلکہ سنٹرل واٹر کمیشن سے نمائندگی کی جائے گی۔ اُنھوں نے کہاکہ متحدہ آندھراپردیش میں بھی سری سیلم پراجکٹ سے پانی کے استعمال کے مسئلہ پر تنازعہ پیدا ہوا تھا۔ تلنگانہ کی کانگریس حکومت گوداوری اور کرشنا میں ریاست کی حصہ داری کا ہرممکن تحفظ کرے گی۔ دونوں ریاستوں کے درمیان آبی تنازعات ہیں۔1