ہیلتھ ایمرجنسی کا اعلان،وزیر خزانہ عہدہ سنبھالنے کے ایک روز بعد مستعفی
کولمبو ؍ نئی دہلی : سری لنکا میں بحران آج مزید بڑھ گیا جبکہ مہندا راجہ پکسے کی حکومت نے آسٹریلیا، ناروے اور عراق میں اپنے سفارت خانوں کو عارضی طور پر بند کردیا۔ کولمبو میں وزیراعظم راجہ پکسے کی قیامگاہ کے باہر احتجاج بارش کے باوجود جاری رہا۔ پولیس نے احتجاجیوں کو منتشر کرنے کے لئے آنسو گیس کا استعمال کیا۔ یہ احتجاج چند روز قبل شروع ہوا تھا جس کا سبب ملک بھر میں معاشی بحران ہے۔ برقی کٹوتی ملک گیر سطح پر تقریباً بارہ گھنٹے شروع کی گئی اور ایندھن کی قیمتیں غیرمعمولی بڑھادی گئیں۔ اِسی معاشی بحران کے سدباب اور ضروری اصلاحی اقدامات کے لئے عوام بالخصوص نوجوان سڑکوں پر اُتر آئے ہیں۔ صدر جی راجہ پکسے کا برسر اقتدار مخلوط گروپ پارلیمنٹ میں اکثریت کھوچکا ہے کیوں کہ آج اتحاد سے کم از کم 41 قانون سازوں نے باہر کا راستہ اختیار کرلیا۔ اِس دوران سری لنکا میں بگڑتی معاشی صورتحال کے درمیان ادویات، ایندھن، آلات کی قلت اور بجلی کی بار بار کٹوتی کے پیش نظر اب ہیلتھ ایمرجنسی کا اعلان کر دیا گیا ہے ۔سری لنکن گورنمنٹ میڈیکل آفیسرز ایسوسی ایشن نے یہ اعلان پیر کو منعقدہ ہنگامی مرکزی کمیٹی کے اجلاس میں کیا۔ایسوسی ایشن کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق موجودہ ناقص معاشی اور مالیاتی نظام کی وجہ سے بجلی کی کمی اور ایندھن کی قلت کے درمیان تمام اسپتالوں اور صحت کی سہولیات میں ضروری ادویات کے ساتھ ساتھ طبی آلات کی بھی شدید قلت پیدا ہو گئی ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ حکومت صحت نگرانی میں کمی کو روکنے کی منصوبہ بندی کرنے میں ناکام رہی ہے کیونکہ مفت صحت خدمات کو ملک کی ترجیح نہیں رکھا گیا ہے ۔ عوام کی زندگی اور صحت کے حق کو یقینی بنانا حکومت کی ناگزیر ذمہ داری ہے لیکن وہ اسے ادا کرنے میں ناکام رہی ہے ۔ دریں اثناء سری لنکا کے سنگین اقتصادی بحران سے نمٹنے کے لئے ملک کے وزیر خزانہ منتخب ہونے کے ایک دن بعد ہی علی صابری نے منگل کو استعفیٰ دے دیا۔ صابری اس چار رکنی عبوری کابینہ کے رکن تھے جسے صدر گوٹابایا راجا پکشے نے پیر کو حکومت کے خلاف بڑھتے ہوئے مظاہروں کے درمیان تشکیل دیا تھا۔ مسٹر صابری نے صدر کے بھائی باسل راجا پکشے کی جگہ وزارت خزانہ کا قلمدان سنبھال لیا تھا، جنہیں اس اقتصادی بحران کے لئے ذمہ دار سمجھا جارہا ہے ۔ صابری ان 29 وزراء میں شامل ہیں جنہوں نے دو روز قبل اجتماعی طور پر استعفیٰ دیا تھا۔ انہوں نے منگل کو صدر کو بتایا کہ وہ وزیر خزانہ کا عہدہ چھوڑ رہے ہیں کیونکہ ان کا کوئی عہدہ لینے کا ارادہ نہیں تھا۔ صابری نے کہا کہ پارلیمانی جمہوریت کو برقرار رکھنے اور نظم و ضبط اور آئینی حکمرانی کو مستحکم رکھنے کے لیے تاجر برادری، کام کاجیوں اور میرے کچھ کابینہ کے ساتھی کے مشورے پر میں وزیر خزانہ کا عبوری عہدہ سنبھالا تھا۔ لیکن موجودہ حالات میں مستعفی ہوجانا بہتر سمجھتا ہوں۔