جزیرہ نما ملک میں ٹامل اقلیت کے ساتھ احترام، انصاف و مساوات کے اُمنگوں کی تکمیل کی اُمید، راجہ پکسے سے مودی کی بات چیت
نئی دہلی۔ 8 فروری (سیاست ڈاٹ کام) ہندوستان نے ہفتہ کو حکومت سری لنکا سے خواہش کی کہ جزیرہ پر مشتمل اس ملک میں رہنے والے تمل اقلیتوں کو مستحقہ اختیارات دیئے جائیں اور امید ظاہر کی کہ دستور کے مطابق احترام، انصاف و مساوات کیلئے ان کی امنگوں کی تکمیل کی جائے گی۔ وزیراعظم نریندر مودی سے ان کے سری لنکائی ہم منصب مہندا راجہ پکسے کی مختلف اُمور پر وسیع تر بات چیت کے بعد انہوں نے کہا کہ اس مسئلہ پر ’کھلے ذہن‘ سے بات چیت کی گئی اور امید کی کہ ٹامل مصالحتی عمل پر کولمبو کی طرف سے بہتر پیشرفت کی جائے گی۔ مہندا راجہ پکسے نے اپنے جواب میں پڑوسی کو اولین ترجیح سے متعلق وزیراعظم نریندر مودی اور ان کی حکومت کی پالیسی پر اظہار تشکر کیا اور کہا کہ یہ ترجیح سری لنکا سے مربوط ہے۔ دونوں وزرائے اعظم نے اپنی بات چیت کے دوران باہمی تعلقات پر تفصیلی غوروخوض کیا۔ انہوں نے باہمی تجارت و سرمایہ کاری کے علاوہ انسداد دہشت گردی پر تعاون میں مزید وسعت و استحکام سے اتفاق کیا۔ راجہ پکسے کے اس دورہ کو نمایاں اہمیت حاصل ہوگئی ہے کیونکہ 2005-16ء بحیثیت صدر سری لنکا بحرہند کے اس چھوٹے سے ملک میں چین کے نقش قدم تیزی سے پڑتے دیکھے گئے تھے۔ مودی نے اپنے صحافتی بیان میں کہا کہ ’’سری لنکا میں امن ، سلامتی و خوشحالی ، ہندوستان بلکہ سارے بحر ہند کے علاقہ کے مفاد میں ہے‘۔ انہوں نے کہا کہ سری لنکا کی ترقی میں ہندوستان ہمیشہ ہی بھروسہ مند ساجھیدار رہا ہے اور امن و ترقی کے سفر میں وہ اس ملک کی اعانت کرتا رہے گا۔ سری لنکا کے صدر گوٹا بایا راجہ پکسے کے بھائی مہندا راجہ پکسے نومبر میں وزیراعظم مقرر کئے جانے کے بعد پہلے بیرونی دورہ پر جمعہ کو ہندوستان پہونچے ہیں۔