سری لنکا کا معاشی بحران:پولیس کی مظاہرین پر فائرنگ

   

کولمبو : سری لنکا میں معاشی بحران کے خلاف مظاہرہ کرنے والوں پر منگل کو پولیس کی فائرنگ سے ایک شخص ہلاک جبکہ 24 دیگر زخمی ہوگئے۔فرانسیسی نیوز ایجنسی اے ایف پی کے مطابق 1948 میں آزادی حاصل کرنے کے بعد سری لنکا اس وقت بدترین معاشی بحران کا شکار ہے۔ دو کروڑ 20 لاکھ افراد کے ملک میں لوگوں کو بجلی کی طویل بندش کے ساتھ ساتھ اشیائے ضروریہ، جن میں ایندھن اور ادویات شامل ہیں، کی کمی کا سامنا ہے۔مظاہرین حکومت سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کر رہے ہیں جو آئی ایم ایف سے مذاکرات کرنے جا رہی ہے۔منگل کو پولیس نے کولمبو کو کینڈی شہر سے منسلک کرنے والی سڑک اور ریلوے لائن کو بلاک کرنے والے مظاہرین پر فائرنگ کی۔ہسپتال انتظامیہ کے ایک عہدیدار نے اے ایف پی کو بتایا کہ ’ایک شخص گولی لگنے سے ہلاک ہوا ہے۔‘’اس کے علاوہ 16 مظاہرین زخمی ہوئے۔ آٹھ افراد کو سرجری کی ضرورت تھی۔ آٹھ پولیس اہلکار بھی زخمی ہوئے۔‘پولیس کے مطابق رامبوکانہ شہر میں مظاہرین ایک آئل ٹینکر کو آگ لگانے والے تھے جب پولیس نے انہیں منتشر کرنے کیلیے آنسو گیس کا استعمال کیا۔پولیس ترجمان کے مطابق ’منتشر ہونے کے بجائے انہوں نے پتھر پھینکنے شروع کر دیے اور ایک موقع پر پولیس نے ان پر فائرنگ کی۔‘اس کے بعد علاقے میں کرفیو لگا دیا گیا۔ منگل کو سری لنکا میں تیل کی قیمت میں 65 فیصد اضافے کے خلاف احتجاج کیا گیا اور یہ بھی ایک ایسا ہی مظاہرہ تھا۔سری لنکا میں امریکی سفیر جولی چنگ نے کہا کہ انہیں اس واقعے پر بہت افسوس ہے۔ ’میں ہر طرح کے تشدد کی مذمت کرتی ہوں۔ شفاف تحقیقات ہونی چاہیں اور لوگوں کو پرامن احتجاج کا حق ہونا چاہیے۔