اسلام آباد : پاکستان کی ایک عدالت نے سیالکوٹ میں ہجوم کے ہاتھوں سری لنکن فیکٹری منیجر پریانتھا کمارا کے قتل کیس میں چھ مجرموں کو پھانسی کی سزا سنائی۔ سات افراد کو عمرقید اور درجنوں دیگرافراد کو دو برس قید کی سزائیں سنائی گئی ہیں۔پاکستان میں انسداد دہشت گردی عدالت نے ہجوم کے ہاتھوں دسمبر میں سری لنکا کے فیکٹری منیجر پریانتھا کمارا قتل کیس میں پیر کے روز فیصلہ سناتے ہوئے چھ مجرموں کو پھانسی کی سزا سنائی۔ سات دیگر افراد کو عمر قید کی سزا سنائی گئی ہے جب کہ کم از کم 67 افراد کو دو برس قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ ایک شخص کو بری کردیا گیا۔پریانتھا کمارا سیالکوٹ میں ایک فیکٹری میں منیجر کے طور پر کام کرتے تھے۔ بعض رپورٹوں کے مطابق ملازمین کے ایک گروپ نے ان پر اہانت اسلام کا الزام لگایا تھا اور کہا تھا کہ انہوں نے ایک ’’سلامی پوسٹرکی توہین‘‘ کی تھی۔ہجوم نے 3دسمبرکو پریانتھا کمارا کو بہیمانہ تشدد کرکے قتل کردیا اور پھر ان کی لاش کو آگ لگادی۔پاکستانی روزنامے ڈان کے مطابق استغاثہ نے ملزمین کے خلاف ثبوت کے طور پر ایسے بہت سے ویڈیوز اور تصاویر پیش کیں جو خود اس جرم میں ملو ث افراد نے تیار کیں اور اتاری تھیں۔ درجنوں عینی شاہدین نے بھی گواہیاں دیں۔ان میں وہ شخص بھی شامل تھا جس نے کمارا کو بچانے کی کوشش کی تھی۔