کسانوں کیلئے ڈرون اور میڈیکل شعبہ کیلئے جدید آلہ، وزارت تعلیم کی جانب سے فائیو اسٹار ریٹنگ
حیدرآباد: وزارت تعلیم کے اختراعی سیل (MIC) نے تقریباً 1700 اعلیٰ تعلیمی اداروں کی جانب سے مختلف شعبہ جات میں ایجاد اور اختراع سے متعلق جائزہ کی تکمیل کرلی ہے۔ قومی سطح کے اداروں میں سری ندھی انسٹی ٹیوٹ آف سائنس اینڈ ٹکنالوجی حیدرآباد کو فائیو اسٹار ریٹنگ دی گئی ہے ۔ ادارہ کی جانب سے تعلیمی سال 2019-20 کے دوران اہم ایجادات اور اختراعی سرگرمیوں کے اعتراف میں یہ ریٹنگ دی گئی ہے۔ سری ندھی انسٹی ٹیوٹ آف سائنس اینڈ ٹکنالوجی کو ساؤتھ سنٹرل زون کے 5 بہترین کارکردگی والے اداروں میں شامل کیا گیا ہے ۔ سری ندھی کو اختراعی سرگرمیوں کے سلسلہ میں 97.5 پوائنٹس حاصل ہوئے ۔ سری ندھی کے 7 انجنیئرنگ ڈپارٹمنٹ کے تحت 11 سنٹرس آف اکسیلنس ریسرچ اینڈ لیابس کارکرد ہیں جس کے تحت طلبہ کو مختلف شعبوں میں عوام کی ضرورتوں کی تکمیل کے مطابق ایجادات کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے ۔ مختلف اداروں کے ماہرین کے اشتراک سے سری ندھی اپنے طلبہ کی رہنمائی کرتا ہے جن میں ٹاسک ، دی انڈس انٹر پرائزس ، ناسکام ، بالا وکاس انٹرنیشنل سنٹر ، وادوانی فاؤنڈیشن اور انڈین اسکول آف بزنس شامل ہیں۔ گزشتہ چند برسوں میں سری ندھی کی خدمات اور اختراعی صلاحیتوں کا نامور اداروں کی جانب سے اعتراف کیا گیا جن میں ڈی آر ڈی او ، ڈی ایل آر ایل ، اسرو ، ورلڈ بینک ، آئی بی ایم اور مائیکرو سافٹ شامل ہیں۔ مختلف صنعتی پراجکٹس کی تیاری کے سلسلہ میں فیکلٹیز کی رہنمائی نے حوصلہ افزاء نتائج فراہم کئے ہیں۔ سری ندھی کے طلبہ اور ماہرین نے زرعی شعبہ میں استعمال کئے جانے والے ڈرون تیار کئے ہیں۔ دنیا بھر میں کسان فصلوں پر ادویات کے چھڑکاؤ کے نتیجہ میں مختلف عوارض کا شکار ہورہے ہیں۔ نئے تیار کردہ ڈرون کے ذریعہ فصلوں پر چھڑکاؤ کیا جاسکتا ہے۔ سری ندھی ہب نے ڈرون ٹکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے
HEXA COPTER
تیار کیا ہے تاکہ کسانوں کا اہم مسئلہ حل ہوسکے۔ اس کے ذریعہ 20 لیٹر تک کیڑے مار ادویات صرف 18 منٹ میں کئی ایکر اراضی کا احاطہ کرسکتی ہے۔ ایک ایکر اراضی صرف 7 تا 8 منٹ میں مکمل کی جاسکتی ہے ۔ ایک اڑان میں دو ایکر اراضی پر اسپرے کیا جاسکتا ہے ۔ کیڑے مار ادویات کے چھڑکاؤ کے علاوہ ڈرون سے فصل کی موجودہ حالت کا پتہ چلانے کے لئے تصاویر بھی حاصل کی جاسکتی ہے ۔ ڈرون کے ذریعہ کسان خودکار طریقہ سے لیبر کی ضرورت کے بغیر فصلوں کا تحفظ کرسکتے ہیں ۔ سری ندھی نے میڈیکل شعبہ میں استعمال کئے جانے والا آلہ
OPTIMUS
ایجاد کیا ہے۔ اس کے ذریعہ نہ صرف مریضوں کی بہتر نگہداشت بلکہ انہیں بروقت ادویات کی فراہمی کو یقینی بنایا جاسکتا ہے۔ ہیلت کیر کے شعبہ میں یہ مشنری انتہائی کارآمد ثابت ہوگی۔ فنگر پرنٹ اور پاس کوڈ کے ذریعہ سیکوریٹی سسٹم رکھا گیا تاکہ مریض کو بہتر وقت پر بہتر دوائیں دی جاسکیں۔ ڈاکٹرس ،نرسس اور مریض کے افراد خاندان اس آلہ کے ذریعہ مریض کی صحت پر نظر رکھ سکتے ہیں ۔ یہ اختراعی ایجاد دواخانوں ، اولڈ ایج ہومس اور ہیلت کیر اداروں میں استعمال کی جاسکتی ہے۔