پرانے شہر کے سید صاحب باڑے میں رہنے والے غریب مسلمانوںکے ساتھ حکام کا بے رحمانہ سلوک
حیدرآباد : پرانے شہر حیدرآباد میں 7 غریب خاندانوں کو سرکاری حکام نے بے دخل کردیا ۔ چھوٹے معصوم بچوں اور ضعیف والدین کو لے کر بے سر و سامان 7 خاندان سڑک پر زندگی گذارنے کے لیے مجبور ہوگئے ہیں ۔ روزانہ کی کمائی پر انحصار کرنے والے ان غریب مسلم خاندانوں کو ان کے مکانات جو انہیں سرکاری طور پر دئیے گئے تھے ، اس سے نکال دیا گیا ۔ ان 7 مسلم خاندانوں کی دل دہلا دینے والی داستان پر ان کا کوئی پرسان حال نہیں ۔ وجہ طلب کرنے پر سرکاری عہدیدار وی آر او اور تحصیلدار انہیں گالیاں دیتے ہیں اور ان کی غربت کا تماشہ بنا کر ان کی زندگیوں کی نمائش کی جارہی ہے ۔ یہ داستان سید صاحب باڑے کی عوام کی ہے ۔ گذشتہ روز لطیفہ بی کی خبر شائع ہونے کے بعد تو انہیں مزید ہراسانی کا سامنا ہے ۔ ان کی داد و فریاد سننے والا کوئی نہیں ۔ وی آر او پر الزام ہے کہ وہ ہر دن انہیں گالیاں دیتا ہے اور ان کی زندگی کو اجیرن بنا چکا ہے ۔ جب کہ تحصیلدار چارمینار تو ان بے سہارا کردئیے گئے عوام سے بات کرنے تک تیار نہیں ۔ سید صاحب باڑے میں مقیم غریب خاندانوں کو پکے مکانات کی تعمیر کے تحت یہاں G+2 کی طرز پر 48 مکانات تعمیر کئے گئے ڈبل بیڈ روم طرز کی تعمیر عمل میں لائی گئی اور ان ہی افراد کو اس میں مکانات دئیے گئے جو یہاں پر دہوں سے بسے ہوئے تھے ۔ لطیفہ بی کے بڑے بیٹے کی عمر اب 59 سال ہے جو سید صاحب باڑے میں پیدا ہوا ۔ سال 2017 میں انہیں مکانات کی منظوری کا الاٹ منٹ لیٹر دیا گیا اور وہ ہنسی خوشی اپنی زندگی بسر کرنے لگے ۔ تاہم سال 2020 میں بلا کسی وجہ 7 خاندانوں کے مکانات خالی کردئیے گئے ۔ یہ تفصیلات محمد سلیم نے بتائی جو پیدائش سے سید صاحب باڑے میں مقیم ہیں اور لطیفہ بی کے فرزند ہیں ۔ جب ان 7 خاندانوں نے وجہ دریافت کی تو انہیں عہدیدار وجہ نہیں بتاتے اور نہ ہی ان سے سیدھے منہ بات کی جاتی ہے ۔ سید صاحب باڑے کی ترقی کے بعد تمام آلاٹ منٹ خواتین کے نام سے کیے گئے تاہم لطیفہ بی ، صدیقہ بیگم ، یوسف بی ، شہناز بیگم ، رضیہ بیگم ، تبسم سلطانہ اور یاسمین بیگم کو ان کے منظورہ مکانات سے نکال دیا گیا ۔ محمد سلیم نے بتایا کہ وہ لوگ وارنڈے میں زندگی بسر کررہے ہیں اور شب بھی وارنڈے میں گذاری جاتی ہے اور جب بارش ہوتی ہے وہ اپنے بچوں اور ضعیف والدین کی حفاظت میں تمام افراد رات بھر جاگتے ہیں ۔ پکوان کے علاوہ دیگر ضروریات پڑوسیوں کے رحم و کرم پر منحصر ہیں ۔ ان 7 خاندانوں کا گذر بسر روزانہ کی کمائی پر ہے ، لاک ڈاؤن میں نرمی کے بعد بھی ان کی خاطر خواہ کمائی نہیں ہوتی ، جن میں اکثر آٹو ڈرائیورس ہیں اور کوئی میوہ فروش ہے تو کوئی ہر ایک مال کا کاروبار کرتا ہے ۔ تمام ٹھیلہ بنڈی پر کاروبار کرتے ہیں ۔ اس طرح کے سنگین حالات کے دوران ان کے سر سے چھت بھی چھین لیا گیا ۔ پرانے شہر کے دبیر پورہ علاقہ میں واقع سید صاحب کے باڑے کے ان پریشان حال خاندانوں کا کوئی مددگار نہیں ۔ جب کہ 7 ماہ قبل چارمینار منڈل کے وی آر او نے انکوائری کے بعد ان کے حق میں رپورٹ دی تھی اور اب وی آر او ہی انہیں پریشان کررہا ہے ۔ وی آر او اکبر علی پر سنگین الزامات کے تعلق ان سے وضاحت پر رابطہ قائم نہ ہوسکا ۔ سید صاحب باڑے کی عوام نے حکومت سے مداخلت کرتے ہوئے ان کے مکانات بحال کرنے کی درخواست کی ہے ۔۔
