سزائے موت سے قبل 300 مجرموں کے آخری الفاظ سنے:امریکی صحافی

   

ٹیکساس: امریکی صحافی نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ انہوں نے امریکہ میں سزائے موت پانے والے خطرناک مجرموں سے عین موت سے قبل بات کی اور ان کے آخری الفاظ نوٹ کئے۔ تاہم وہ کہتی ہیں کہ ان میں سے بعض جملے ان کے لاشعور کا حصہ بن چکے ہیں اور وہ بہت تکلیف دہ ہیں۔نوجوانی میں وہ ہنٹس ویلی آئٹم نامی اخبار سے وابستہ تھیں لیکن جلد ہی وہ ٹٰیکساس کے شعبہ جرائم سے وابستہ ہوئیں۔سال 2000 سے 2012 کے درمیان ان کے سامنے 300 افراد کو سزائے موت دی گئیں اور مشیل نے ان سے ملاقات کی اور ان کے آخری الفاظ نوٹ کئے۔ اس طرح وہ دنیا میں سزائے موت پانے والے مجرموں کی معلومات، نفسیات اور ان کے اہلِ خانہ اور متاثرین کے اہلِ خانہ سے واقف ماہرین میں غیرمعمولی رتبہ پاچکی ہیں۔ مشیل نے اپنی کتاب میں ’ ڈیتھ رو‘ میں ان تمام باتوں کا انکشاف کیا ہے۔