سزا یافتہ عہدیداروں کو شخصی حاضری کیلئے ہائیکورٹ کی ہدایت

   

Ferty9 Clinic

عہدیدار آسانی سے بچ نہیں پائیں گے، چیف جسٹس ہیما کوہلی کا ریمارک
حیدرآباد 25 جولائی (سیاست نیوز) ہائیکورٹ نے عدالتی احکامات کی خلاف ورزی پر سزا یافتہ عہدیداروں کو سماعت کے موقع پر شخصی حاضری کی ہدایت دی ۔ عدالتی احکام کی خلاف ورزی کرنے والے عہدیداروں پر سخت موقف برقرار رکھتے ہوئے چیف جسٹس ہیما کوہلی اور جسٹس بی وجئے سین ریڈی پر مشتمل ڈیویژن بنچ نے واضح کردیا کہ سنگل ججس کی جانب سے توہین عدالت کے مقدمات میں جن عہدیداروں کو سزا سنائی گئی اُنھیں اپیل کے موقع پر شخصی یا پھر ورچول حاضر ہونا پڑیگا۔ اُنھوں نے کہاکہ سزا کے خلاف اپیل کی سماعت کے دوران شخصی حاضری کو لازمی قرار دیا گیا ۔ بنچ نے عہدیداروں کے رویہ پر ناراضگی جتائی اور کہاکہ اکثر دیکھا گیا کہ اپیل کے موقع پر عہدیدار غیر حاضر ہیں۔ چیف جسٹس نے کہاکہ مستقبل میں ایسا نہیں چلے گا اور عہدیدار آسانی سے بچ نہیں پائینگے۔ اُنھوں نے سزا یافتہ عہدیداروں کو انتباہ دیا۔ ورنگل رورل کے آر ڈی او مہندر کو سنگل جج نے 2 ماہ کی جیل اور 2 ہزار روپئے جرمانہ کی سزا سنائی ۔ لینڈ ایکویزیشن کے معاملہ میں عدالتی احکامات کی خلاف ورزی پر یہ سزا سنائی گئی۔ ایس آر نگر کے سب انسپکٹر اشوک نائک کو ایک ہفتے کی جیل اور دو ہزار روپئے جرمانے کے علاوہ سکریٹری تلنگانہ اقامتی اسکولس سوسائٹی اے ستیہ نارائنا کو علیحدہ معاملہ میں 2 ماہ کی قید اور 2 ہزار روپئے جرمانے کی سزا سنائی گئی تھی۔ تینوں نے سزا کے خلاف اپیل دائر کی ۔ ڈیویژن بنچ نے کہاکہ عہدیداروں کو پہلے جرمانے کی رقم ادا کرنی چاہئے اُس کے بعد عدالت اپیل کی سماعت کریگی ۔