سسرال میں متاثرہ خواتین جائے پناہ سے مقدمہ درج کرا سکتی ہیں

   

Ferty9 Clinic

نئی دہلی، 9 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) سپریم کورٹ نے منگل کے روز ایک اہم فیصلہ دیتے ہوئے کہا کہ سسرال میں ظلم و ستم کی شکار خواتین، مائیکے سے یا اپنی جائے پناہ سے بھی مقدمہ دائر کرا سکتی ہیں۔چیف جسٹس رنجن گگوئی، جسٹس ایل ناگیشور راؤ اور جسٹس سنجے کشن کول کی بنچ نے مختلف ریاستوں سے دائر چھ درخواستوں کا فیصلہ کرتے ہوئے یہ فیصلہ سنایا۔ ان میں ایک عرضی اترپردیش کی روپالي دیوی کی بھی تھی۔عدالت نے کہا کہ ظلم کی وجہ سے سسرال سے نکالی جانے والی خواتین ، ملزمان کے خلاف اس مقام سے بھی جہاں انہوں نے پناہ لی ہوئی ہو، مقدمہ درج کراسکتی ہیں۔ بنچ نے اپنے فیصلے میں واضح کر دیا ہے کہ اب خواتین کو اپنی سسرال کے علاقے میں شکایت درج کرانے کی ضرورت نہیں ہے ۔عدالت نے کہا کہ متاثرہ خاتون تعزیرات ہند (آئی پی سی) کی دفعہ 498 اے کے تحت اپنی جائے پناہ یا مائیکے میں مجرمانہ مقدمہ درج کرا سکتی ہے ۔ اب تک خواتین کو اسی جگہ مقدمہ دائر کرانا پڑتا تھا، جہاں اس کی سسرال ہو۔دراصل کورٹ اس معاملے پر ایک حوالہ پر غور کر رہا تھا کہ کیا تعزیرات ہند کی دفعہ 498 اے کے تحت جہیز کے لئے ہراساں کرنے کی سزا پر، ظلم کا معاملہ اُس جگہ درج کیا جا سکتا ہے ، جو تحقیقات اور ملزم کی سزا کے دائرہ اختیار والے مقام سے الگ ہو ۔