سعودیہ اور ایران سمیت 6 ممالک کو برکس کی رکنیت

,

   

یکم جنوری2024سے عمل‘ارجنٹینا، مصر، ایتھوپیا اور یو اے ای بھی شامل

جوہانسبرگ:ابھرتی ہوئی معیشتوں کی تنظیم برکس نے سعودی عرب اور ایران سمیت 6 ممالک کو رکنیت دینے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ تنظیم برکس کا 15 واں سربراہی اجلاس جنوبی افریقہ میں منعقد ہوا جس کے تیسرے اور آخری دن تنظیم میں توسیع کا اعلان کیا گیا۔جنوبی افریقہ کے صدر کا کہنا تھا کہ برکس نے سعودی عرب اور ایران سمیت 6 ممالک کو نئے رکن بننے کی دعوت دینے کا فیصلہ کرلیا ہے اور نئے ممالک کی برکس رکنیت یکم جنوری 2024 سے نافذ العمل ہو گی۔جنوبی افریقہ کے صدر کے مطابق جن 6 ممالک کو برکس کی رکنیت دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے ان میں ارجنٹینا، مصر، ایران، ایتھوپیا، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات شامل ہیں۔روسی صدرپیوٹن نے برکس کی توسیع کے اعلان کا خیر مقدم کیا جب کہ چینی صدر نے کہا کہ برکس کی توسیع برکس کے مکینزم کو نئی تحریک دے گی۔اس کے علاوہ اجلاس میں ادائیگیوں کے لیے نئی کرنسی کے قیام پر غورکرنیکی قرارداد کی بھی منظوری دی گئی۔واضح رہے کہ برکس کے رکن ممالک میں برازیل، روس، ہندوستان، چین اور جنوبی افریقہ شامل ہیں جب کہ برکس میں 2010کے بعد ہونے والی یہ پہلی توسیع ہوگی۔وزیر اعظم نریندر مودی نے بھی برکس میں توسیع اور نئے ممالک کو شامل کرنے کا خیر مقدم کیا ہے ۔ ہندوستان کو خدشہ تھا کہ برکس کا ایک بڑا گروپ چین کیلئے ماؤتھ پیس میں تبدیل ہوجائے گا جبکہ برازیل کو خدشہ ہے کہ اس سے مغرب تنہا ہوجائے گا ۔ سعودی عرب اور مصر نے ممکنہ طور پر برکس میں شمولیت کے بارے میں اپنی موقف کا اعلان نہیں کیا ہے ۔ اگرچہ سعودی عرب نے اجلاس میں اپنا ایک وفد روانہ کیا ہے ۔