ریاض ۔ 9 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) سعودی عرب کے حکام نے شہزادوں اور دیگر بااثر شخصیتوں کے خلاف دوسری مہم شروع کردی ہے جو رٹز ۔ کارلٹن 2017ء کے اقدامات کی مانند ہے۔ ذرائع نے ٹوئیٹر پر اس ضمن میں دستاویزات پیش کئے ہیں۔ ایک ٹوئیٹر اکاؤنٹ نے کئی دستاویزات کے ذریعہ بتایا ہیکہ حکام نے کئی شہزادوں اور تجارتی شخصیتوں کے اثاثے منجمد کردیئے ہیں۔ ٹوئیٹر ہینڈل ’این اولڈ ڈپلومیٹ‘ نے بیان کیا ہیکہ سعودی ولیعہد محمد بن سلمان نے ریاض کے شمال میں شیخ عجلان ال عجلان کی ملکیتی وسیع اراضیات ضبط کرلئے ہیں۔ انہوں نے قبل ازیں یہ زمینات کو فروخت کرنے سے روک دیا تھا۔ ایک اور ٹوئیٹ میں بتایا گیا کہ ریاض کے شمال میں حماد بن سعیدان کی ملکیت والے کمپنی اثاثوں کے انتظام اور اس کے فروخت کو بھی منجمد کردیا گیا ہے۔ اسی طرح ریاض ال مستقبل ریئل اسٹیٹ، عبدالرحمن الشیخ اور محمد العیدان کے دیگر ریئل اسٹیٹ جائیدادیں بھی قبضہ میں لے لی گئی ہے۔ 2017ء میں محمد بن سلمان کی سرکردگی میں ہی اسی نوعیت کی کارروائی وی آئی پیز کے خلاف ہوئی تھی جس کے ذریعہ سعودی مملکت نے کافی دولت اکھٹا کی۔ سعودی حکام نے بعض شہزادوں اور دیگر شخصیتوں کو محروس بھی کیا تھا جنہیں بڑی بڑی رقومات کے عوض رہا کیا گیا۔
