سعودیہ میں ماہ رمضان کی روایتی گہماگہمی نہیں

,

   

Ferty9 Clinic

ریاض۔30 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) مقدس ماہ ِ رمضان اس مرتبہ سعودی شہریوں کیلئے انوکھا اور بالکلیہ طور پر مختلف ثابت ہورہا ہے کیونکہ انہیں زیادہ تر وقت گھروں تک محدود رہنا پڑ رہا ہے۔ سعودی شہریوں کو زندگی میں کبھی اس طرح کے حالات کا سامنا نہیں رہا۔ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ اسلامی دنیا کے دو مقدس ترین مقامات ہیں جہاں ہر سال رمضان کے موقع پر مسلمان کی زیادہ سے زیادہ تعداد جمع ہوتی ہے لیکن 2020ء بالکلیہ مختلف سال بن کر آیا ہے جس میں سعودی شہریوں کو تک کعبۃ اللہ اور مسجد نبویؐ میں آزادی سے جانے کی اجازت نہیں ہے۔ اس صورتحال میں نہ صرف سعودی شہری بلکہ لاکھوں کی تعداد میں مقیم تارکین وطن کو اپنی صحت کو اولین ترجیح دیتے ہوئے گھروں تک محدود رہنا پڑ رہا ہے۔ وہ گھروں میں رہتے ہوئے وقت گذاری کے مختلف وسیلے تلاش کررہے ہیں۔ کوئی موبائیل پر مصروف ہے، کوئی دیگر الیکٹرانک آلات اور کمپیوٹر وغیرہ سے دِل بھلارہا ہے، لیکن سب لوگ اس طرح کے مشغلوں میں مگن نہیں ہے ۔ بڑی تعداد میں سعودی شہری اور تارکین وطن قرآن پاک کی تلاوت اور اذکار میں بھی مصروف ہیں۔ سعودی حکومت نے تقریباً 10 گھنٹے کیلئے لاک ڈاؤن میں نرمی دی ہے اور عملاً پوری مارکٹ کھلی رکھنے کی اجازت دی گئی ہے جس سے تارکین وطن کا کسب ِمعاش کچھ حد تک بحال ہوا ہے۔