ٹرمپ اور شاہ سلمان کی فون پر گفتگو،کئی امور پر تبادلۂ خیال
ریاض ۔10 مئی (سیاست ڈاٹ کام)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور سعودی فرمانروا شاہ سلمان نے فون پر گفتگو کر کے دونوں ملکوں کے درمیان مضبوط دفاعی شراکت داری جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔دونوں رہنماؤں کے درمیان گفتگو ایک ایسے موقع پر ہوئی جب تیل کے عالمی بحران کے سبب امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان تناؤ کی خبریں زیر گردش ہیں اور امریکہ نے سعودی عرب سے اپنی افواج کے انخلا کی بھی دھمکی دی تھی۔گزشتہ ہفتے خبر رساں ایجنسی رائٹرز نے رپورٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ 2 اپریل کو ٹرمپ نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ٹیلی فونک گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ جب تک تیل برآمد کرنے والے ملکوں کی تنظیم (اوپیک) تیل کی پیداوار میں کمی نہیں کرتی، اس وقت تک وہ سعودی عرب سے امریکی افواج کے انخلا کے حوالے سے قانون سازی روکنے میں بے اختیار ہوں گے۔اس سے قبل کبھی بھی اس 75 سالہ اسٹریٹیجک اتحاد کے خاتمے کی دھمکی کے حوالے سے کوئی بھی خبر رپورٹ نہیں ہوئی اور اس کا بنیادی مقصد امریکہ کی جانب سے تیل کی پیداوار کے تاریخی معاہدے کے حوالے سے دباؤ ڈالنا ہے جہاں کورونا وائرس کی وجہ سے دنیا بھر میں تیل کی مانگ میں کمی ہوئی ہے اور اس تمام پیشرفت کو امریکہ کی سفارتی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔اس حوالے سے اجلاس میں شریک امریکی انتظامیہ کے ذرائع کے مطابق ٹرمپ نے سعودی ولی عہد کو یہ پیغام تیل کی پیداوار میں کمی کے اعلان سے 10 دن قبل دیا تھا اور اس دھمکی کا محمد بن سلمان پر اس حد تک اثر ہوا تھا کہ انہوں نے کمرے میں موجود تمام افراد کو باہر نکلنے کا حکم دیا تھا تاکہ وہ رازداری کے ساتھ گفتگو کو جاری رکھ سکیں۔ٹرمپ نے گزشتہ ماہ سعودی عرب سے تیل کی پیداوار کم کرنے کی درخواست کی تھی کیونکہ کورونا وائرس کے بحران کے سبب سعودی عرب کی جانب سے پیدوار بڑھانے کے بعد امریکہ میں تیل کی پیداوار کرنے والوں پر شدید دباؤ بڑھ گیا تھا۔ وائٹ ہاؤس سے جاری بیان میں ترجمان جْڈ ڈیر نے کہا کہ دونوں رہنماؤں نے عالمی توانائی کی مارکیٹوں کے استحکام کی اہمیت پر اتفاق کیا اور سعودی عرب اور امریکہ کے درمیان مضبوط دفاعی شراکت داری جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا گیا۔بیان میں کہا گیا کہ امریکی صدر اور شہزادہ سلمان نے بالترتیب جی7 اور جی20 کے رہنماؤں کی حیثیت سے دیگر علاقائی اور دوطرفہ معاملات پرگفتگو کرتے ہوئے تعاون جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔بیان میں پیٹریاٹ میزائل کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا اور وائٹ ہاؤس نے اس معاملے پر مزید وضاحت نہیں دی۔امریکی سیکریٹری آف اسٹیٹ مائیک پومپیو نے سعودی عرب کی حفاظت کے لیے نصب پیٹریاٹ میزائل ہٹانے کے حوالے سے زیر گردش خبروں کی تصدیق کی تاہم کہا کہ اس کا یہ مطلب نہیں کہ امریکہ، سعودی عرب سے تعاون میں کمی کردے گا اور اس کا مقصد تیل کے معاملے پر سعودی عرب پر دباؤ ڈالنا بھی نہیں ہے۔انہوں نے مزید وضاحت دیتے ہوئے کہاکہ اس کا یہ مطلب بھی نہیں ہے کہ ایران اب خطرہ نہیں رہا۔انہوں نے کہا کہ پیٹریاٹ میزائل کچھ عرصے سے وہاں نصب ہیں اور امریکی فوجی دستوں کو واپس بلانے کی ضرورت ہے، یہ فوجیوں میں ردوبدل کا معمول کا طریقہ کار ہے۔سعودی عرب نے مذکورہ فون کال کے حوالے سے بیان میں کہا کہ ٹرمپ نے خطے میں اپنے اتحادیوں کی سیکیورٹی اور مفادات کا تحفظ یقینی بنانے کی یقین دہانی کرائی ہے۔