جنرل اتھاریٹی برائے شماریات کا سروے
ریاض : ( کے این واصف) موبائیل فون یا ڈیجیٹل ڈیواسز کی مثال ’’ سانپ کے منہ کی چجچوندر ’ نہ اگلتے بنے نہ نگلتے بنے‘ والی کہاوت کی سی ہوگئی ہے ۔ موبائیل فون کے بغیر انسانی زندگی کا تصور ہی محال ہے ۔ بچوں میں ڈیجیٹل ڈیوائسز کے استعمال میں روز بروز اضافہ اور بھی زیادہ خطرے کی گھنٹی ہے ۔ اس سلسلہ میں سعودی جنرل اتھاریٹی برائے شماریات نے بچوں کی بہبود کے حوالے سے 2024 کے سروے میں کہا ہے کہ پانچ برس کی عمر تک کے بچے ڈیجیٹل ڈیوائسز استعمال کرتے ہیں ۔ عکاظ کے مطابق 36سے 59 ماہ کے 9.45 فیصد بچے ابتدائی تعلیمی کورسز سے منسلک ہیں جن میں لڑکوں کا تناسب 10.68 جبکہ لڑکیاں 8.35 فیصد ہیں ۔ سروے رپورٹ کے نتائج میں مزید بتایا گیا کہ پانچ سے ساتھ برس کی عمر کے 32.07 فیصد بچے یومیہ ایک سے دو گھنٹے تک ڈیجیٹل ڈیواسز پر وقت گزارتے ہیں ۔ اتھاریٹی کے مطابق 36سے 59 ماہ کے بچوں کو بہترین تعلیمی گھریلو ماحول میسر ہے جس میں ان کے والدین بھرپور تعلیمی اُمور پر توجہ دیتے ہیں ۔رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ 23.56فیصد پانچ برس سے کم عمر بچوں کے پاس ایک یا دو تعلیمی کتابیں ہیں جبکہ 9.86 فیصد بچوں کے پاس تین یا اس سے زائد کتابیں ہوتی ہیں ۔ اس سے قبل ارلی چائلڈ ہوڈ ڈیولپمنٹ انڈیکس رپورٹ میں بتایا گیا کہ سعودی عرب میں 5 سے 7 سال کی عمر کے 90فیصد بچے روزانہ ڈیجیٹل ڈیوائسز استعمال کرتے ہیں ۔