ریاض ۔ 2 اگست (سیاست ڈاٹ کام) سعودی عرب میں اب خواتین کو اپنے سرپرستوں سے اجازت لئے بغیر بیرون ممالک کا سفر کرنے کی منظوری دیدی گئی۔ حکومت کی جانب سے ایک اعلان کے ذریعہ یہ وضاحت کی گئی جس کے بعد اب سعودی میں خواتین پر لاگو کی جانے والی مختلف پابندیوں پر کی جانے والی تنقیدوں کا سلسلہ رک جائے گا جس نے حالیہ دنوں میں متعدد خواتین کو مملکت سے فرار ہونے پر مجبور کردیا تھا۔ اس اصلاحاتی اقدام کے ذریعہ سعودی عرب کا وہ قدامت پسند ’’رواج‘‘ ختم ہوجائے گا جس کے تحت خواتین کو ’’قانونی طور پر ہمیشہ نابالغ‘‘ ہی تصور کیا جاتا رہا اور ہمیشہ ان کے والد، شوہر اور دیگر مرد رشتہ داروں کی ان پر اجارہ داری رہی حالانکہ سعودی عرب ولیعہد محمد بن سلمان کے سیاسی منظر پر ابھرنے کے بعد انہوں نے کئی اصلاحات متعارف کروائیں جن میں سب سے اہم خواتین کو کار ڈرائیونگ کی اجازت دینا شامل ہے۔ سعودی عرب دنیا کا واحد ایسا ملک تھا جہاں خواتین کو کار ڈرائیو کرنے کی اجازت نہیں تھی۔ علاوہ ازیں دیگر اصلاحات کے باوجود بھی خواتین نے اپنے سرپرستوں کا لحاظ نہ کرتے ہوئے ملک سے فرار ہونے کو ترجیح دی تھی۔ دریں اثناء سرکاری گزٹ ام القراء میں شائع شدہ ایک سرکاری حکمنامہ کے مطابق کہ سعودی شہری کی جانب سے درخواست کے ادخال کے بعد پاسپورٹ کی اجرائی کی جائے گی۔ اس طرح 21 سال سے زائد خواتین کو بھی پاسپورٹ کے حصول کے بعد اپنے ’’سرپرست‘‘ کی اجازت کے بغیر بیرون ملک سفر کرنے کی اجازت رہے گی۔ کہا جارہا ہیکہ اگر اس ’’اصلاحی قانون‘‘ پر مکمل طور پر عمل آوری کی گئی تو پھر سعودی خواتین کو اپنی زندگی پر خود اپنا کنٹرول حاصل ہوجائے گا۔
