ریاض ۔17 جون (سیاست ڈاٹ کام)سعودی عرب دنیا بھر کی تیل مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ کے بعد ایک بار پھر دنیا میں تیل برآمد کرنے والا سب سے بڑا ملک بن گیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق گذشتہ تین ماہ سے تیل مارکیٹ میں یکسر تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں، جس کے بعد پچھلے سال امریکہ کی تیل برآمد کرنے کا پہلا مقام سعودی عرب نے دوبارہ حاصل کر لی ہے۔صنعت ماہرین نے کہا ہے کہ اپریل 2020 میں کورونا وائرس کے باعث لاک ڈاؤن کی وجہ سے تیل کی قیمتوں میں تیزی سے کمی واقع ہوئی تھی۔جس کے بعد سعودی عرب نے یومیہ تقریباً 1.1کروڑ بیرل تیل کی ریکارڈ برآمدکی تھی جب کہ اس عرصے میں امریکہ کی تیل کی برآمد تقریباً 86 لاکھ بیرل ریکارڈ کی گئی تھی۔بعدازاں اوپیک پلس کے تاریخی معاہدے کے بعد مئی میں دونوں ممالک کی برآمدات میں کمی واقع ہوئی لیکن اس کے باوجود سعودی عرب کی تیل برآمد سب سے زیادہ ہے۔صنعتی ماہرین کے مرتب کردہ اعداد و شمار شائع کرنے والے مشرق وسطیٰ میں معاشی سروے کی دوسری سہ ماہی میں واضح کیا گیا ہے کہ سعودی عرب 2020 کی دوسری سہ ماہی میں پیداوار میں سب سے آگے رہا ہے۔ برینٹ کروڈ جو عالمی معیار کا درجہ رکھتا ہے وہ 40 ڈالر سے اوپرکی سطح پر واپس آگیا جبکہ ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کی قیمت 37 ڈالر ہے۔بین الاقوامی توانائی ایجنسی(آئی ای اے) کی رپورٹ میں 2020 میں تیل کی طلب میں توقع سے کہیں زیادہ کمی کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ تیل کی طلب میں تاریخ کی سب سے بڑی کمی کے باعث 91.7 ملین بیرل یومیہ ہو گی جو سابقہ پیش گوئی سے بھی کم ہے۔ بین الاقوامی توانائی ایجنسی نے کہا کہ ائیرلائنز کی سنگین صورتحال کی وجہ سے تیل کی طلب میں جو کمی ہوئی ہے اسے کورونا وائرس سے پہلے جیسی طلب میں واپس آنے تک 2022 کا انتظار کرنا پڑے گا۔واضح رہے کہ تیل کی قیمتوں میں کمی کے باعث چین کی جانب سے مارچ اور اپریل میں جب کہ انڈیا کی تیل کی طلب میں مئی میں تیزی سے اضافہ دیکھنے میں آیا تھا۔بین الاقوامی تیل ایجنسی کی جانب سے رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اگرچہ تیل مارکیٹ کی صورتحال نازک ہے قیمتوں میں حالیہ معمولی اضافے سے 2020 کی پہلی ششماہی زیادہ پرامید رہی ہے۔اوپیک پلس معاہدے کی شکل میں اقدامات اور جی 20 کے وزرائے توانائی کی میٹنگ نے تیل مارکیٹ میں استحکام کی بحالی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔اوپیک پلس اتحاد کی مشترکہ وزارتی نگران کمیٹی رواں ہفتے کے آخر میں متنازعہ کٹوتیوں کی تعمیل کا جائزہ لینے کے لیے مذاکرات کرے گی، اس بات کی امید کی جا رہی ہے کہ اس میں کم از کم ایک ماہ کی توسیع ہوسکتی ہے۔