ریاض 8 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) امریکی جریدوں میں شائع ہونے والی خبروں کے مطابق سعودی حکومت نے شاہی خاندان کے تین سینیئر اراکین کو حراست میں لے لیا ہے۔حراست میں لیے گئے اراکین میں سعودی بادشاہ شاہ سلمان بن عبدالعزیز کے چھوٹے بھائی بھی شامل ہیں تاہم اب تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ ان افراد کو کن وجوہات کی بنا پر حراست میں لیا گیا ہے۔حراست میں لیے جانے والوں میں سے دو سلطنت میں انتہائی بااثر شخصیات تھیں جبکہ ان حراستوں کو سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے ساتھ جوڑا جا رہا ہے۔خیال رہے کہ سنہ 2017 میں محمد بن سلمان کے احکامات پر سعودی شاہی خاندان کے درجنوں اراکین، وزرا اور کاروباری شخصیات کو گرفتار کر کے ’رٹز کارلٹن ہوٹل‘ تک محدود کر دیا گیا تھا۔سعودی شہزادے کو گیارہ ماہ بعد رہا کر دیا گیا ’ملزمان کے خلاف مقدمہ سعودی عرب میں چلے گا‘محمد بن سلمان کو سنہ 2016 میں ولی عہد کے عہدے پر فائز ہونے کے بعد سے درحقیقیت سلطنت کا سربراہ سمجھا جاتا ہے۔امریکی جریدے نیویارک ٹائمز اور وال سٹریٹ جرنل کے مطابق یہ گرفتاریاں جمعے کی صبح کی گئیں۔حراست میں لیے جانے والے اراکین میں شاہ سلمان کے چھوٹے بھائی شہزادہ احمد بن عبدالعزیز، سابق ولی عہد محمد بن نائف اور شاہی کزن شہزادہ نواف بن نائف شامل ہیں۔یاد رہے کہ سنہ 2017 میں محمد بن سلمان نے اس وقت کے وزیر داخلہ محمد بن نائف کو عہدے سے ہٹا کر نظر بند کر دیا تھا۔یاد رہے کہ سنہ 2017 میں محمد بن سلمان نے اس وقت کے وزیر داخلہ محمد بن نائف کو عہدے سے ہٹا کر نظر بند کر دیا تھا۔ وال سٹریٹ جرنل کے مطابق جمعے کے روز شاہی اراکین کو ان کے گھروں سے سعودی گارڈز نے حراست میں لیا۔ انھوں نے چہرے پر ماسک اور سیاہ رنگ کا لباس پہن رکھا تھا۔محمد بن سلمان کو سنہ 2016 میں اس وقت عالمی پذیرائی ملی جب انھوں نے قدامت پسند ملک سعودی عرب میں متعدد اقتصادی اور سماجی اصلاحات کرنے کا عزم کیا۔
