سعودی شاہی خاندان کے 150 افراد کورونا میں مبتلا؟

,

   

Ferty9 Clinic

شاہ سلمان اور ولیعہد محمد کا سیلف آئیسولیشن
گورنر ریاض شہزادہ فیصل متاثرین میں شامل

ریاض۔ 9 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) سعودی عرب کے شاہی خاندان کے کم از کم 150 افراد کورونا وائرس میں مبتلا ہوگئے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ 84 سالہ سعودی فرمانروا شاہ سلمان اور ولیعہد محمد بن سلمان نے سیلف آئیسولیشن اختیار کرلیا ہے۔ اگرچہ سعودی عرب کی حکومت کی جانب سے 9 اپریل کی شام تک وہاں تقریباً 3 ہزار افراد کے کورونا میں مبتلا ہونے اور 44 افراد کے ہلاک ہونے کی تصدیق کی گئی تھی، تاہم حکومت نے کسی بھی شاہی خاندان کے فرد کے حوالے سے کوئی تصدیق یا تردید نہیں کی۔امریکی اخبار ’’نیویارک ٹائمز‘‘ نے 8 اپریل کو اپنی رپورٹ میں ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض کے گورنر اور شاہی خاندان کے اہم فرد 70 سالہ شہزادہ فیصل بن بندر بن عبدالعزیز السعود بھی کورونا وائرس میں مبتلا ہوچکے ہیں اور ان کا انتہائی نگہداشت میں علاج کیا جا رہا ہے۔رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ فیصل بن بندر بن عبدالعزیز کا علاج کرنے والے دواخانہ کے ایک اعلیٰ عہدیدار ڈاکٹر نے 7 اپریل کو مذکورہ دواخانہ کے دیگر ڈاکٹرز کو آن لائن پیغام بھیجا جس میں عملے کو ہدایات کی گئیں کہ دواخانہ کو جلد سے جلد عام مریضوں سے خالی کیے جانے کے انتظامات کیے جائیں۔رپورٹ کے مطابق مذکورہ ڈاکٹر نے دواخانہ کے ڈاکٹرز کو واضح ہدایات کیں کہ جلد سے جلد دواخانہ کو عام مریضوں سے خالی کرنے کی کوشش کی جائے اور اس وقت صرف ان ہی مریضوں کا دواخانہ میں علاج کیا جن کی حالت تشویشناک ہو۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ اگرچہ ڈاکٹر نے دواخانہ کے عملے کو یہ نہیں بتایا کہ وہ دواخانہ کو خالی کروانے کی ہدایات کیوں دے رہے ہیں، تاہم ذرائع سے دعویٰ کیا گیا کہ سعودی شاہی خاندان کے 150 افراد وبا میں مبتلا ہو چکے ہیں۔حیران کن طور پر رپورٹ میں کورونا وائرس سے متاثرہ شاہی خاندان کے کسی اور فرد کا نام اور مزید معلومات فراہم نہیں کی گئی، تاہم قیاس آرائیوں اور ذرائع سمیت سعودی عرب میں بڑھتے کورونا وائرس کے کیسیس کی معلومات فراہم کرتے ہوئے بتایا گیا کہ شاہی خاندان کے افراد بھی وبا کا شکار بن چکے ہیں۔سعودی عرب کے شاہی خاندان کے درجنوں افراد یورپ سمیت دنیا کے دیگر حصوں میں معمول کے مطابق آتے جاتے ہیں، اس لیے امکان ہے کہ شاہی خاندان کے افراد باہر سے ہی کورونا گھر میں لائے ہوں گے۔