۔1967ء کی سرحد وں تک اسرائیل کی واپسی ممکن ، آزاد فلسطینی مملکت کی راہ ہموار
تل ابیب : اسرائیل کے سابق وزیراعظم ایہود اولمرٹ نے کہا ہے کہ سنہ 2002 ء کو سعودی عرب کی طرف سے تنازعہ فلسطین کے حل کے لیے پیش کردہ امن منصوبہ بہترین حل ہے جس کے تحت اسرائیل کو 1967ء کی جنگ میں قبضے میں لیے 95 فی صد علاقوں کو خالی کرنے پر زور دیا گیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اسرائیل کو سنہ 1967ء کی سرحدوں پر واپس آنا ہوگا تاکہ سعودی عرب کے پیش کردہ امن فارمولے کے تحت آزاد فلسطینی مملکت کے قیام کی راہ ہموار کی جاسکے۔العربیہ چینل کے پروگرام ‘البعد الآخر’ میں میزبان منتھیٰ الرمحی کو دیے گئے انٹرویو میں اویہود اولمرٹ نے کہا کہ بنجمن نیتن یاہو کھلے دل کے ساتھ فلسطینیوں سے مذاکرات کرنے اور اراضی خالی کرنے کے لیے پسپائی پر تیار نہیں ہوں گے کیونکہ ان کے خیال میں اسرائیل کا پسپائی اختیار نہ کرنا ہی ملک کے مفاد میں ہے۔ سابق اسرائیلی وزیراعظم نے کہا کہ میری خواہش ہے کہ عرب ممالک کی قیادت بالخصوص جرات مند سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان امن عمل کو آگے بڑھانے کے لیے کردار ادا کریں کیونکہ وہ اپنی طاقتوراور ڈائنامکن شخصیت کی بدولت مشرق وسطی میں پائیدار امن کے قیام کے لیے اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔مقبوضہ بیت المقدس کے تنازع سے متعلق ایہود اولمرٹ نے کہا کہ مشرقی یروشلم کا کچھ حصہ مکمل طور پر آزاد رہنا چاہیے اور اس کا انتظام مشترکہ طور پر اسرائیل، فلسطین، اردن، سعودی عرب اور امریکا کے پاس ہو اور اس کی نگرانی اقوام متحدہ کرے۔اسرائیلی میں گذشتہ منگل کو ہونے والے پارلیمانی انتخابات کے بارے میں بات کرتے ہوئے ایہود اولمرٹ نے کہا کہا کہ انہوں نے ‘میراو میخائلی’ کی قیادت میں لیبر پارٹی کو ووٹ دیا ہے کیونکہ میں نیتن یاہو پر اعتبار نہیں کرتا۔ نیتن یاہو کے اقتدار کے دن ختم ہونے والے ہیں۔ اگر نیتن یاہو پانچویں بار بھی کنیسٹ کے انتخابات کراتے ہیں تو وہ پھر بھی شکست کھائیں گے۔عرب لیگ کے سابق سیکرٹری جنرل نبیل العربی نے ایہود اولمرٹ کے نقطہ نظر سے اتفاق کیا اور کہا کہ یہ درست ہے کہ نیتن یاہو صرف اپنی ذات اور اپنی خواہشات کے مطابق سوچتے ہیں۔
