سعودی عرب جانے والے افراد ٹراویل ایجنٹس کی جانب سے استحصال کا شکار

   

مالدیپ اور آرمینیا میں مشکلات، لمحہ آخر میں ٹکٹ نہیں دیا گیا، ٹکٹ کیلئے 40 ہزارکا اضافی بوجھ

حیدرآباد۔/5 ستمبر، ( سیاست نیوز) کورونا وباء اور لاک ڈاؤن کے سبب ہندوستان میں پھنس جانے والے افراد کو ملازمت کیلئے سعودی عرب واپسی کے دوران ٹراویل ایجنٹس کی جانب سے استحصال کا سامنا ہے۔ سعودی عرب میں اپنی ملازمت بچانے کیلئے ویزا کا مقررہ مدت سے قبل واپسی ضروری ہے اور اس صورتحال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حیدرآباد کے کئی ٹراویل ایجنٹس نہ صرف بھاری رقومات وصول کررہے ہیں بلکہ انہوں نے مالدیپ اور آرمینیا میں کئی افراد کو بے یارومددگار چھوڑ دیا۔ واضح رہے کہ سعودی عرب نے ہندوستانی شہریوں کو واپسی کیلئے کسی اور ملک میں 14 دن کورنٹائن کی شرط رکھی ہے اور حیدرآباد سے تعلق رکھنے والے افراد کیلئے مالدیپ، آرمینیا، سری لنکا، ازبکستان، عمان اور قطر سے کورنٹائن کے بعد واپسی کی سہولت موجود ہے۔ حالیہ عرصہ میں حیدرآباد کے ٹراویل ایجنٹس کے ذریعہ روانہ ہونے والے کئی افراد کو مالدیپ اور آرمینیا میں پہنچنے کے بعد تلخ تجربات سے گذرنا پڑا۔ روانگی سے قبل ایجنٹس ایک لاکھ 50 ہزار تا ایک لاکھ 70 ہزار کا پیاکیج پیش کررہے ہیں اور ان سے مکمل رقم وصول کی جارہی ہے۔ مالدیپ میں قیام اور طعام کے انتظام کا وعدہ کیا گیا لیکن وہاں موجود افراد نے شکایت کی کہ غیر معیاری غذا سربراہ کی گئی۔ 14 دن کی تکمیل سے عین قبل ایجنٹ نے یہ کہتے ہوئے سعودی عرب کا فضائی ٹکٹ فراہم کرنے سے انکار کردیا کہ ٹکٹ کی قیمت میں اضافہ ہوچکا ہے۔ روزگار کو بچانے کیلئے حیدرآبادی افراد اپنے طور پر کسی اور ایجنٹ کے ذریعہ زائد قیمت پر فضائی ٹکٹ حاصل کرنے کیلئے مجبور ہیں۔ حیدرآباد سے روانہ ہونے والے کئی افراد نے مالدیپ اور سعودی عرب پہنچنے کے بعد اپنے تلخ تجربات سے واقف کرایا۔ بتایا جاتا ہے کہ ایجنٹ کے ٹکٹ فراہمی سے انکار کے بعد انہیں مالدیپ سے جو ٹکٹ خریدنا پڑا وہ فی کس 74 ہزار تا 80 میں تھا جس کے نتیجہ میں انہیں ایجنٹ کے معاہدہ کے علاوہ 30 تا 40 ہزار روپئے زائد ادا کرنے پڑے۔ ایجنٹ نے 40 ہزار میں ٹکٹ کا وعدہ کیا تھا لیکن اس نے معاہدہ کے وقت ہی ٹکٹ بک نہیں کروایا جس کے نتیجہ میں عوام کو زائد رقم ادا کرنی پڑرہی ہے۔ R